قومی ورثہ ڈویژن:اخراجات ،تنخواہوں کیلئے 2ارب 60کروڑ مختص

قومی ورثہ ڈویژن:اخراجات ،تنخواہوں کیلئے 2ارب 60کروڑ مختص

ثقافتی خدمات کیلئے 1ارب 30کروڑ ،تعلیم سے متعلقہ امور کیلئے 42 کروڑ تجویز پی ایس ڈی پی کے تحت تین جاری منصوبوں کیلئے 44کروڑ 50لاکھ روپے رکھے گئے

 اسلام آباد(زاہداعوان ، ماہتاب بشیر)حکومت نے مالی سال 2026-27کے دوران قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کیلئے مجموعی طور پر 2ارب 60 کروڑ 46 لاکھ 35 ہزار روپے کے فنڈز مختص کرنے کی منظوری دی جو کہ گزشتہ مالی سال کے 2 ارب 49 کروڑ 56 لاکھ روپے کے ترمیمی تخمینوں سے نمایاں طور پر زیادہ ہے ۔ وفاقی وزارت تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، قومی ورثہ و ثقافت کی بجٹ دستاویزات کے مطابق، فنکشنل درجہ بندی کے تحت اس بجٹ کا سب سے بڑا حصہ یعنی 1 ارب 29 کروڑ 98 لاکھ روپے 'ثقافتی خدمات'کے لیے رکھا گیا ہے ، جبکہ تعلیم سے متعلقہ دیگر امور کے لیے 42 کروڑ 53 لاکھ روپے اور عام اقتصادی، تجارتی و لیبر امور کے لیے 53 کروڑ 73 لاکھ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ بجٹ کی ابجیکٹ درجہ بندی کے تحت فنڈز کی تقسیم کا جائزہ لیا جائے تو ملازمین کے اخراجات کی مد میں سب سے زیادہ 1 ارب 35 کروڑ 68 لاکھ روپے مختص ہوئے ہیں جس میں افسران اور دیگر عملے کی تنخواہوں کے لیے 59 کروڑ 24 لاکھ روپے اور مختلف الائونسز کے لیے 764.3 ملین روپے سے زائد کی رقم شامل ہے ۔ اس کے علاوہ ڈویژن کے آپریشنل اخراجات کے لیے 1 ارب 10 کروڑ روپے ، مرمت و دیکھ بھال کے لیے 7 کروڑ 42 لاکھ روپے ، ریٹائرمنٹ کے فوائد کے لیے 2 کروڑ 44 لاکھ روپے اور گرانٹس و سبسڈیز کی مد میں 4 کروڑ 19 لاکھ روپے سے زائد کی رقم فراہم کی جائے گی۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی کے تحت ڈویژن کے مختلف منصوبوں کے لیے 44 کروڑ 50 لاکھ روپے کا بجٹ مختص کیا ہے ۔ پہلے سے جاری تین منصوبوں میں آرکیالوجی اینڈ میوزیمز کے شعبہ میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کا قیام، مزار قائد پر ایوانِ نوادرات قائداعظم اور اسلام آباد میں نیشنل کلچرل ہیریٹیج انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے منصوبے شامل ہیں،ان منصوبوں پر مجموعی لاگت کا تخمینہ دو ارب چھیاسٹھ کروڑ اٹھاسی لاکھ چھیاسی ہزار روپے ہے جبکہ 30 جون 2026 تک ان منصوبوں پر پانچ کروڑ ستتر لاکھ روپے کے اخراجات متوقع ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں