لاڑکانہ میں قتل نوجوان کی والدہ کی جانب سے بازیابی کیلئے دائر درخواست خارج

لاڑکانہ میں قتل نوجوان کی والدہ کی جانب سے بازیابی کیلئے دائر درخواست خارج

کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے لاڑکانہ میں کاروکاری کے الزام میں نوجوان کے قتل اور لاش نہر میں بہانے سے متعلق کیس میں سابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے ازخود نوٹس کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے مقتول کی والدہ کی جانب سے لاش کی بازیابی کے لیے دائر درخواست خارج کر دی۔

آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس سلیم جیسر نے کہا کہ یہ معاملہ درخواست گزار کی جانب سے بھیجی گئی درخواست پر شروع ہوا تھا، جسے 2023 میں اس وقت کے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئینی درخواست میں تبدیل کر دیا تھا۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے بیٹے علی احمد بروہی کے لاپتا ہونے کے بعد قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جبکہ ٹرائل کورٹ نامزد ملزموں کو بری کر چکی ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزموں کی بریت کے خلاف اپیل سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ سرکٹ میں زیر التوا ہے ۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے بیٹے کی لاش تاحال برآمد نہیں ہو سکی اور متعلقہ حکام کو لاش کی بازیابی کے لیے مزید اقدامات کا حکم دیا جانا چاہیے ۔ جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد ہائی کورٹس کے ازخود نوٹس لینے کے اختیارات ختم ہو چکے ہیں، لہٰذا موجودہ صورتحال میں یہ ازخود نوٹس کیس غیر مؤثر ہو چکا ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار ملزموں کی بریت کے خلاف زیر التوا اپیل میں اپنی شکایات اور اعتراضات پیش کر سکتے ہیں، جس کے بعد درخواست خارج کر دی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں