بیراجی نظام سندھ کی شہ رگ،دریا میں پانی کا بہاؤ گزشتہ سال سے بہتر:وزیراعلیٰ
سکھر بیراج کی بحالی سے اس کی عمر میں مزید 30 سال اضافہ متوقع ،مرادعلی شاہ،جدید کاری منصوبے کی تکمیل کاافتتاح صوبے کوضرورت سے کم پانی مل رہا، وزیراعظم کوخط لکھ دیا، ارسا نے ہمارے اعداد و شماردرست مانے ، میڈیاسے گفتگو
سکھر (نمائندہ دنیا) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سکھر بیراج کی بحالی اور جدید کاری کو ’’سندھ کے آبی تحفظ اور زرعی مستقبل کے لیے ایک سنگ میل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے 23.436 ارب روپے کے اس بڑے منصوبے کو تیز رفتاری سے مکمل کر کے جنوبی ایشیا کے اہم ترین آبپاشی نظاموں میں سے ایک کو محفوظ بنایا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے سندھ بیراجز امپروومنٹ پراجیکٹ کے تحت سکھر بیراج کی بحالی اور جدید کاری منصوبے 26-2025ء کے ورکنگ سیزن کی کامیاب تکمیل کا افتتاح کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے تاریخی سکھر بیراج کے مختلف بحال شدہ حصوں کا معائنہ کیا، منصوبے کے مختلف اجزا پر پیشرفت کا جائزہ لیا اور گزشتہ برس مکمل کیے گئے وسیع پیمانے پر جدید کاری کے کاموں کا مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اوردیگر بھی موجود تھے ۔وزیراعلیٰ نے کہا اپ گریڈ شدہ سکھر بیراج سیلابی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافے ، آبپاشی کے نظام کی بہتری اور صوبے بھر کے لاکھوں آبادگار خاندانوں کے روزگار کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا جون 2024ء میں بیراج کے گیٹ نمبر 44 اور 47 کی خرابی کے بعد حکومت سندھ نے بحالی کے دو سیزن کا کام ایک ہی سیزن میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے ایک بڑا عارضی کوفر ڈیم تعمیر کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ گڈو بیراج بحالی منصوبہ 9.585 ارب روپے کی لاگت سے کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے ، جبکہ سکھر بیراج منصوبہ 23.436 ارب روپے کی مجموعی سرمایہ کاری سے جاری ہے ۔
سندھ حکومت نے منصوبے کے اصل اہداف سے بڑھ کر کامیابیاں حاصل کی ہیں، جہاں 32 گیٹس کی تبدیلی کا ہدف مقرر تھا، وہاں ہم نے 44 گیٹس تبدیل کیے ، جو سندھ کے آبی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ہماری سنجیدہ کوششوں کا ثبوت ہے ۔ اس موقع پر سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دریائے سندھ کے اندر موجود تمام 44 بیراج گیٹس اور ان کے ہوسٹنگ سسٹمز جدید ترین ڈیزائن کے مطابق تبدیل کر دیے گئے ہیں اور اب مکمل طور پر فعال ہیں، تمام 44 بیراج خلیوں (Bays) میں سول مرمت کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ 27 نہری گیٹس اور متعلقہ ڈھانچوں کی بحالی بھی کی گئی ہے ۔ نہروں میں پانی کی درست پیمائش کے لیے چھ گیج ویلز تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ بیراج کے اوپر جمع شدہ مٹی اور ریت نکالنے کے کام (ڈریجنگ) سے پانی کے بہاؤ میں بہتری آئی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ آبپاشی کو ہدایت کی کہ منصوبے کے باقی مراحل میں معیار، حفاظت اور شفافیت کے اعلیٰ ترین اصولوں کو برقرار رکھا جائے اور جون 2027ء تک منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے ۔ مراد شاہ نے سندھ بیراجز امپروومنٹ پراجیکٹ کے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر پریتم داس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیچیدہ تکنیکی چیلنجز سے نمٹنے اور منصوبے کو کامیابی سے مکمل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سیکریٹری آبپاشی نے بتایا کاؤنٹر ویٹ سسٹم کے خاتمے سے بیراج پر تقریباً 4,500 ٹن مردہ بوجھ (Dead Load) کم ہوا ہے ، جس سے ڈھانچے کی مضبوطی، آپریشنل کارکردگی اور دیکھ بھال میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ نے سکھر میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے سندھ کے بیراجی نظام کو ’’سندھ کی شہ رگ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکھر بیراج کی بحالی سے اس کی عملی عمر میں مزید 30 سال کا اضافہ متوقع ہے ۔ پانی کی قلت سے متعلق سوالات کے جواب میں مراد شاہ نے کہا انہوں نے تین روز قبل وزیراعظم کو سندھ کے تحفظات کے حوالے سے خط لکھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کے نظام میں اس سال پانی کے بہاؤ کی صورتحال گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں بہتر ہے ۔ انہوں نے کہا 8 جون 2026ء تک دریاؤں میں پانی کی آمد 8 جون 2025ء کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی۔سابق وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے بھی سندھ کے پانی کے مسائل کے حوالے سے ارسا حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا اگرچہ ابتدائی طور پر سندھ کے تحفظات کو تسلیم نہیں کیا گیا، تاہم بعد ازاں ارسا نے صوبے کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کو درست مان لیا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق سندھ میں پانی کی کمی ابتدا میں تقریباً 41 فیصد بتائی گئی تھی، جس کے بعد اضافی 20 ہزار کیوسک پانی چھوڑا گیا، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کو اب بھی ضرورت سے کم پانی مل رہا ہے ۔