ایران امریکامعاہدے میں مزیدایک یا دودن لگ سکتے :سیٹھی
صدر ٹرمپ جلد معاہدہ چاہتے ،ایرانی قیادت میں اختلافات موجود ہیں اسرائیل ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کر سکتا :’’آج کی بات سیٹھی کیساتھ ‘‘
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ ہو جائے گا، تاہم یہ کب ہوگا، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے ۔پروگرام ‘‘آج کی بات سیٹھی کے ساتھ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم شہباز شریف نے یہ ٹویٹ کی کہ معاہدہ آخری مرحلے میں ہے اور 24 گھنٹوں کے اندر طے پا جائے گا تو انہیں یہ ایک سیاسی چال محسوس ہوئی، کیونکہ ان کے خیال میں ایسی ٹویٹ کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کے خیال میں یہ ٹویٹ کروائی گئی تھی، تاہم وہ اس بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکتے اور یہ ان کا ذاتی تجزیہ ہے ۔ وہ وزیراعظم کے مؤقف کی اہمیت کم نہیں کرنا چاہتے تھے ، اس لیے ابتدا میں خاموش رہے ، لیکن دوسری مرتبہ بھی 24 گھنٹوں میں معاہدے کی بات کی گئی اور بعدازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ٹویٹ کو ری پوسٹ کیا تو انہیں محسوس ہوا کہ معاہدہ اتنی جلدی نہیں ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ جلد معاہدہ (صفحہ5بقیہ نمبر26)
چاہتے ہیں، جبکہ ایرانی قیادت میں اس حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔ بعض حلقے معاہدے کے حق میں نہیں، اس لیے ایران جلد بازی سے گریز کر رہا ہے ۔ عالمی برادری کی جانب سے بھی ایران اور امریکا کے درمیان معاملات طے کرنے کے لیے دباؤ موجود ہے ، تاہم ایران کے مفاد میں یہی ہے کہ وہ مذاکراتی عمل کو کچھ وقت دے تاکہ اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکے ۔ اسرائیل کی کوشش ہوگی کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کیا جائے ۔ ان کے بقول جب 24 گھنٹوں میں معاہدے کی خبریں سامنے آئیں تو اسرائیل نے بیروت پر حملے کر دئیے ، جو ان کے خیال میں اسی تناظر کا حصہ تھا۔ مجوزہ معاہدے کی تفصیلات منظرعام پر آنے کے بعد ایران کے اندر بھی مخالفت سامنے آ رہی ہے ۔ سخت گیر حلقے سمجھتے ہیں کہ ایران پہلے سے بہتر شرائط حاصل کر سکتا ہے ، جن میں پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے مطالبات شامل ہیں۔ ان کے خیال میں معاہدے میں مزید ایک یا دو دن لگ سکتے ہیں، تاہم اگر اسرائیل نے خود کو محدود نہ رکھا تو یہ عمل مزید طول پکڑ سکتا ہے ۔