سوئٹزرلینڈ میں معاہدے کی تقریب کا مقام تبدیل: ایران جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکتا ، ایسا کیا تو اُڑا دیا جائیگا : ٹرمپ

 سوئٹزرلینڈ  میں معاہدے کی تقریب کا مقام تبدیل: ایران جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکتا ، ایسا کیا تو اُڑا دیا جائیگا : ٹرمپ

پاکستان ،قطر کی تجویز پر مقام جنیوا سے برگن سٹاک منتقل ،امریکی صدر کی امیرقطر اور اماراتی صدر سے ملاقاتیں،ایران کو امریکا کاایک پیسہ نہیں ملے گا :جے ڈی وینس لبنان پرحملہ معاہدہ کی خلاف ورزی ہوگی:عراقچی،جنگی سازوسامان کی پیداوار بڑھانے کیلئے نیا امریکی ایکٹ نافذ،اسرائیلی فورسز کے لبنان اور غزہ پر حملے ، 6 افراد شہید

جنیوا ، تہران ، واشنگٹن (اے ایف پی ، مانیٹرنگ ڈیسک)مشرقِ وسطٰی میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے پر جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں دستخط کئے جائیں گے تاہم پاکستان اور قطر کی تجویز پر دستخط کا مقام جنیوا سے برگن سٹاک منتقل کردیا گیا ہے جو کہ ایک پہاڑی تفریحی مقام ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناہے کہ ایران سے معاہدہ منصفانہ ہے ،امر یکا کے بغیر اسرائیل کا وجود نہیں ہوتا ،نیتن یاہو ذمہ داری دکھائیں، ایران جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکتا ،ایسا کیا تو اُڑا دیا جائیگا ۔تفصیلات کے مطابق ایران امریکا امن معاہدے پر دستخط کی باقاعدہ تقریب 19 جون کو برگن سٹاک میں ہوگی، جو جھیل لوسرن کے بلند مقام پر واقع ایک محفوظ اور سخت سکیورٹی والا سیاحتی مقام ہے ۔سوئس وزارتِ خارجہ کے مطابق تقریب کی میزبانی سوئٹزرلینڈ کرے گا جبکہ پاکستان اور قطر اس عمل میں ثالثی کے مرکزی کردار کے طور پر شریک ہوں گے ۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق معاہدے کی دستاویز تقریباً ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ایک عمومی نوعیت کا معاہدہ ہے ، جس میں بنیادی طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی میں کمی پر اتفاق کیا گیا ہے ۔معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کی بحالی بھی شامل ہے ، جسے جنگ کے دوران بند کر دیا گیا تھا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی کے مطابق ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے اور دستخط سے قبل ہی اس پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے ۔فرانس میں جی سیون کے اجلاس کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے میڈیاسے گفتگو میں کہاکہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے اور اگر ایران نے خلاف ورزی کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ میرے خیال سے ایران سے منصفانہ ڈیل ہوئی ہے ،امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا، تاہم معاہدے کے تحت دیگر خلیجی ممالک سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم واپس لینے کے حوالے سے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اسے ضبط کرنے کے وقت کے بارے میں انہیں کوئی جلدی نہیں ہے ،اس معاہدے کو منظوری کیلئے امریکی کانگریس کے پاس بھیجا جائے گا۔ایران کے پاس اب معقول قیادت ہے جبکہ لبنان جنگ کو معمولی تنازع سمجھتا ہوں۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو ایران اور لبنان کے محاذ پر اقدامات میں احتیاط برتنی چا ہئے ،اسرائیل بہت پہلے تباہ ہوجاتا اگر میں مداخلت نہیں کرتا، امریکا کے بغیر اسرائیل کا وجود نہیں ہوتا۔ اسرائیل کو بول دیا ہے کہ مجھے بیروت پر حملہ پسند نہیں آیا، نیتن یاہو سے اچھے تعلقات ہیں،وہ ذمہ داری دکھائیں ، اسرائیل کو تجویز دی ہے کہ حزب اللہ سے نمٹنے کی ذمہ داری شام کو سونپی جائے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے امیرقطر شیخ تمیم سے بھی ملاقات کی ،ان کاکہناتھاکہ جمعہ تک آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا،ایران معاہدے کا متن رسمی ترتیب میں جاری کریں گے ،معاہدے کے مثبت نتائج ہونگے ، توقع ہے کہ ایران ڈیل کا دوسرا مرحلہ جلد شروع ہو جائے گا، ایران ڈیل پر نیوز کانفرنس کریں گے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں ہتھیاروں کی سپلائی اور تیاری میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تاریخی ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ نافذ کر دیا ۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد جنگی سازوسامان کی پیداوار اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا ہے ۔یہ فیصلہ واشنگٹن میں امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کی گرتی ہوئی پیداواری صلاحیت اور بڑھتی ہوئی عالمی طلب کو پورا کرنے کے حوالے سے پائی جانے والی شدید تشویش کے بعد سامنے آیا ہے ۔اس نئے حکم نامے کے تحت امریکی وزیرِ دفاع کو یہ اختیار سونپ دیا گیا ہے کہ وہ دفاعی صنعتی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے نجی صنعتوں کے نمائندوں کے ساتھ رضاکارانہ معاہدے کریں۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا ایران کو کوئی مالی رقم نہیں دے رہااس حوالے سے دعوے پروپیگنڈا ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو اسے محدود معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں اور قطر، متحدہ عرب امارات یا سعودی عرب ایران میں سرمایہ کاری کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

فاکس نیوزسے گفتگو کرتے ہوئے ان کاکہناتھاکہ امریکا کے ساتھ امن معاہدے کے تحت ایران کو امریکا کا ایک پیسہ بھی نہیں دیا جائے گا ۔دوسری جانب واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بعد ایرانی تیل بردار ٹینکروں اور دیگر بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی جسے بظاہر امریکی بحری ناکہ بندی میں نرمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق اس وقت تین ایرانی تیل بردار ٹینکر شمالی بحرِ ہند میں سفر کر رہے ہیں، جبکہ ضروری اشیا اور مویشیوں کے چارے سے لدے دو دیگر جہاز جنوبی ایرانی بندرگاہوں کی جانب رواں دواں ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا فوری اور مستقل خاتمہ سب سے اہم نکتہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور حزب اللہ ایک فریق جبکہ امریکا اور اسرائیل دوسرا فریق ہیں۔عراقچی کے مطابق کسی بھی صورت میں لبنان پر اسرائیلی حملہ معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جبکہ اسرائیلی افواج کا قبضہ جاری رہنا بھی ناقابل قبول ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دو مرحلے ہوں گے ، پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز، ناکہ بندی اور تعمیر نو جبکہ دوسرے مرحلے میں جوہری پروگرام اور پابندیوں کا خاتمہ شامل ہوگا۔لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے ایران کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ تہران نے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے حزب اللہ اور لبنانی عوام کی ہر سطح پر حمایت کی ہے۔ ادھر اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان کے ضلع نبطیہ کے قصبے میفدون میں دو گاڑیوں اور قریبی قصبے شوکین میں ایک گاڑی کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا جس میں 4 افراد شہید ہوگئے ،اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کی جانب سے داغے گئے راکٹوں کو ناکارہ بنایا اور جوابی کارروائیاں کیں جبکہ حزب اللہ نے ایسے کسی حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے متعلق تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اسرائیلی فورسز نے شمالی غزہ کے علاقوں میں بھی اپنا کنٹرول بڑھا دیا ،خان یونس اور رفح کے علاقوں میں یلو زون کے دائرے کو مزید وسیع کیا گیا ہے ، جبکہ وسطی غزہ کے نصیرات پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں دو فلسطینی بھائی شہید ہوگئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں