امریکا ایران جنگ:فیلڈ مارشل نے معاملہ حل کرایا:سکیورٹی ذرائع

امریکا ایران جنگ:فیلڈ مارشل نے معاملہ حل کرایا:سکیورٹی ذرائع

پاکستان معاملہ میں نہ پڑتا تو کون جنگ رکوا تا؟ بغیر جنگ لڑے کامیابی حاصل کی گئی بھارت آزاد کشمیر میں آگ لگانے کیلئے کوشاں ،پاکستانی پانی روکنے کے سنگین نتائج افغانستان میں موجود دہشتگرد خطرہ ہیں،بانی پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی

راولپنڈی (خصوصی نیوز رپورٹر،دنیا نیوز)اعلیٰ سکیورٹی ذرائع نے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ معاہدے کو خطے میں امن اور استحکام کیلئے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر ذمہ دار اور موثر سفارتی کردار ادا کرکے ثابت کیا ہے کہ وہ محض بیانات اور تشہیری سفارت کاری پر نہیں بلکہ عملی اقدامات اور نتیجہ خیز مذاکرات پر یقین رکھتا ہے ۔سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ امریکا ایران معاہدے میں فیلڈ مارشل کی دلچسپی خطہ میں امن و استحکام کیلئے ہے ، اگر پاکستان معاملہ میں نہ پڑتا تو مسلم دنیا میں یہ جنگ کون رکوا سکتا تھا، فیلڈ مارشل نے جو بیڑا اٹھایا ہے اس کا ادراک دنیا کو ہو رہا ہے ، یہ جنگ مسلم دنیا پر مسلط ہو چکی تھی ،فیلڈ مارشل نے حکمت عملی سے معاملہ حل کرایا، تمام اہم فریقین کے ساتھ مشاورت اور تعاون کے ذریعے پاکستان، خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے کو ایک بڑے جنگی تصادم سے بچایا، جس کے سنگین نتائج ہو سکتے تھے ۔ سکیورٹی ذرائع نے اس عمل کو ایک ایسی حکمتِ عملی قرا ر دیا جس میں جنگ لڑے بغیر کامیابی حاصل کی گئی، یہ کامیابی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اخلاص، پیشہ ورانہ صلاحیت، بصیرت اور اللہ تعالٰی کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔

اعلیٰ سکیورٹی حکام کی جانب سے میڈیا کو دی گئی تفصیلی بریفنگ میں قومی سلامتی، دہشتگردی کے خلاف جنگ، افغانستان کی صورتحال، آزاد جمو ں و کشمیر، مسئلہ کشمیر، سندھ طاس معاہدے ، بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال اور دفاعی تیاریوں سمیت اہم قومی و علاقائی امور پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اور افہام و تفہیم ہے ، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ہر مشکل مرحلے پر جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دی، پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں متعدد دوست ممالک نے بھی کشیدگی سے گریز کیا اور خطے کو ایک ممکنہ بڑے بحران سے بچانے میں مدد ملی،دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے بتایا کہ سال 2026 کے ابتدائی ساڑھے پانچ ماہ کے دوران ملک بھر میں 32 ہزار 92 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے گئے ،خیبر پختونخوا میں 5 ہزار 710 جبکہ بلوچستان میں 24 ہزار 718 کارروائیاں شامل ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان آپریشنز کے دوران ایک ہزار 861 دہشت گردوں کوجہنم واصل کیا گیا، جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں 640 شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔

افغانستان میں موجود مختلف شدت پسند تنظیمیں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہیں، پاکستان افغانستان کے عوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور تمام مسائل کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے ، انہوں نے کہا کہ افغانستان کی حدود میں کئے جانے والے تمام فضائی و عسکری حملے انتہا ئی درستگی اور ٹھوس انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کئے گئے ۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کی سہولت کاری ، پناہ اور سرپرستی ختم کریں ، تاہم انہوں نے ہمیشہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، افغان طالبان کی ہٹ دھرمی اور غیر سنجیدہ رویے کے باعث پاکستان نے سرحد پار دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر سکیورٹی ذرائع نے کہا آزاد کشمیر میں مظاہرین میں چھپے کئی کردار اور انکے اصل مقاصد کُھل کر سامنے آچکے ہیں،اُن سے قانون کے مطابق ہی نمٹا جائے گا، بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے آزاد کشمیر میں آگ لگانے کی کوشش کررہا ہے ۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ریاست کے پاس مکمل معلومات ہیں کہ کون لوگ، کن مقاصد اور کس منصوبہ بندی کے تحت آزاد کشمیر میں حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکومت اور ریاستی اداروں نے ہمیشہ مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، تاہم اگر کوئی گروہ قانون ہاتھ میں لے کر ریاستی رٹ کو چیلنج کرے گا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ بریفنگ میں مسئلہ کشمیر کو بھی تفصیل سے زیرِ بحث لایا گیا۔سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے اور یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے ، آبادی کے تناسب میں تبدیلی، سیاسی دبائو اور مختلف قانونی اقدامات کے باوجود کشمیری عوام کے نظریات تبدیل نہیں کئے جا سکے ،بھارت طاقت کے ذریعے کشمیر پر اپنا تسلط تو قائم رکھ سکتا ہے لیکن کشمیری عوام کے دل و دماغ نہیں جیت سکتا، سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا موقف بھی واضح کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ بھارت عالمی قوانین اور معاہدوں کے تحت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت پاکستانی پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ،دفاعی تیاریوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ رواں مالی سال پاکستان کا دفاعی بجٹ تقریباً تین ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ اس بجٹ کا بڑا حصہ آپریشنل ضروریات، پٹرولیم مصنوعات، راشن، تعمیر و مرمت اور دیگر لازمی اخراجات پر صرف ہوتا ہے جبکہ جدید دفاعی صلاحیتوں کی ترقی بھی قومی ترجیحات میں شامل ہے ۔بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ بعض دہشت گرد تنظیموں کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے اور ان کا مقصد بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے ، تاہم ریاست دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے کی ترقی کیلئے پوری طرح پرعزم ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کسی کی کوئی ملاقا ت نہیں ہوئی،اگر کسی نے ملنا ہے تو سیاستدانوں سے ملیں، 9 مئی کرنے اور کرانے والوں کو کیفرکردار تک پہنچانے تک کوئی محفوظ نہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں