ایوان میں گرما گرمی، جملے بازی ، قہقہوں میں بجٹ بحث
پیپلز پارٹی،حکومت آمنے سامنے ، مائیک بندش پر سحر کامران شدید برہم ہو ئیں
اسلام آباد (سہیل خان) قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر ریلوے حنیف عباسی، اپوزیشن رکن ثنااللہ مستی خیل اور وفاقی وزیر مصطفی کمال نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے ایوان میں اپنےاپنے مؤقف کا بھرپور اظہار کیا جبکہ اس دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان نوک جھونک بھی جاری رہی۔اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے اراکین نے حکومت پر شدید تنقید کی۔ ایک موقع پر ڈپٹی سپیکر غلام مصطفی شاہ نے پیپلز پارٹی کی رکن سحر کامران کو بات مکمل کرنے کی اجازت نہیں دی اور ان کا مائیک بند کر کے فلور دوسرے رکن کو دے دیا جس پر وہ شدید برہم ہو گئیں اور شکایت لے کر خورشید شاہ اور شازیہ مری کے پاس پہنچ گئیں تاہم بعد میں انہیں سمجھا کر نشست پر واپس بٹھا دیا گیا۔ایوان میں ارکان کی سہولت کے لیے فراہم کیے گئے ‘‘ٹیب’’ کو فعال کرنے کے لیے بارکوڈ کا پیپر لگایا گیا تاہم ارکان کی اکثریت نے ڈیجیٹل نظام کے بجائے روایتی طور پر کاغذی دستاویزات کا استعمال جاری رکھا۔اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر پٹیل نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 28ویں ترمیم کی باتیں چل رہی تھیں اور اب معاملات 41ویں ترمیم تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلب پر ٹیکس معاف اور تار پر ٹیکس لگا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایوان میں بیٹھے کچھ ارکان کو اگر الیکشن لڑایا جائے تو انہیں اصل مسائل کا اندازہ ہو جائے گا۔اپوزیشن رکن ثنااللہ مستی خیل نے شعر و شاعری کے انداز میں سیاسی صورتحال اور بجٹ پر حکومت کو چیلنج کیا اور کہا کہ اگر ان کے پیش کردہ اعداد و شمار غلط ثابت ہوئے تو وہ استعفیٰ دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے ایوان میں کاغذات لہراتے ہوئے کہا کہ حکمران جا رہے ہیں۔ایوان اس وقت دلچسپ صورتحال اختیار کر گیا جب سپیکر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جنید اکبر بار بار امیر مقام کی طرف انگلی کا اشارہ کر رہے ہیں، میں یہ اشارہ حذف کرتا ہوں۔ اس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے ۔سپیکر نے ایوان میں جماعتوں کو دیے گئے وقت اور استعمال شدہ وقت کی تفصیل بھی پیش کی۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے 16 گھنٹے تھے جن میں سے 4 گھنٹے 25 منٹ استعمال ہو چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے 9 گھنٹے تھے ، جن میں سے 4 گھنٹے استعمال ہوئے ۔ ایم کیو ایم کے 2 گھنٹے 40 منٹ میں سے 1 گھنٹہ 40 منٹ استعمال ہوا، جبکہ تحریک انصاف کے 9 گھنٹے 2 منٹ میں سے 8 گھنٹے 2 منٹ استعمال ہو چکے ہیں۔ سپیکر نے امید ظاہر کی کہ ایوان میں 40 گھنٹے کی بحث جلد مکمل کر لی جائے گی۔