جسٹس (ر)مقبول باقر حملہ کیس،2ملزم عدالت میں پیش
انسداد دہشت گردی عدالت میں گواہان پیش نہ ہونے پر کارروائی آگے نہ بڑھ سکی تفتیشی افسر کی تاخیر سے پیشی پر عدالت کا اظہار برہمی، سماعت 4 جولائی تک ملتوی
کراچی (سٹاف رپورٹر) انسداد دہشت گردی عدالت میں جسٹس (ر)مقبول باقر پر حملے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران جیل حکام نے ملزموں معصوم عرف بلا اور یاسر عرفات کو عدالت میں پیش کردیا، تاہم استغاثہ کے گواہان پیش نہ ہونے پر کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ سماعت کے دوران تفتیشی افسر تاخیر سے عدالت میں پیش ہوا، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ پراسیکیوشن کے گواہان کیوں پیش نہیں ہوئے ۔ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ جسٹس (ر) مقبول باقر کی جانب سے گواہی کے لیے پیش ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔ دوران سماعت ملزموں نے کمرہ عدالت میں شور شرابہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ برسوں سے جیل میں قید ہیں اور مقدمے کا فیصلہ کیا جائے ۔ عدالت نے پراسیکیوشن کو آئندہ سماعت پر گواہان کو ہر صورت پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید مہلت دے دی۔ پولیس کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر پر 2013 میں دہشت گرد حملہ کیا گیا تھا۔ حملے میں جسٹس (ر) مقبول باقر کی سکیورٹی پر مامور ایک پولیس اہلکار سمیت 7 افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے ۔ عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 4 جولائی تک ملتوی کر دی۔