افغانستان کے مستقبل کا تعین سیاسی عمل سے ہونا چاہیے :افغان مندوب
قابض رجیم کے احکامات جمہوری عمل کا نتیجہ نہ عوام ان پالیسیوں کے حامی تمام طبقات کو نمائندگی ،عوامی رائے کو اہمیت دی جائے :نصیر احمد اندیشہ
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر) اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل مندوب نصیر احمد اندیشہ نے کہاہے کہ افغانستان پر قابض طالبان رجیم کی جانب سے جاری کیے جانے والے احکامات عوامی مشاورت یا جمہوری عمل کا نتیجہ نہیں ہیں۔ طالبان حکومت کے حالیہ اقدامات اور احکامات پر سوالات اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں افغانستان کے سرکاری قوانین یا عوامی رائے کی نمائندگی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔اقوام متحدہ میں اپنے بیان کے دوران نصیر احمد اندیشہ نے کہا کہ افغانستان کے عوام طالبان کی متعدد پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتے اور یہ اقدامات ملک کے مختلف طبقات کی امنگوں اور توقعات کی نمائندگی بھی نہیں کرتے۔
ان کے مطابق افغان شہری نہ صرف سخت گیر پالیسیوں سے متاثر ہو رہے ہیں بلکہ بعض علاقوں میں ان پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔نصیر احمد اندیشہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مستقبل کا تعین ایسے سیاسی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے جس میں تمام طبقات کو نمائندگی حاصل ہو اور عوامی رائے کو اہمیت دی جائے ۔سیاسی و بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق عالمی برادری کی جانب سے افغانستان میں انسانی حقوق، خواتین کی تعلیم، سیاسی شمولیت اور حکمرانی کے دیگر معاملات پر مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے ۔