سندھ اسمبلی:بجٹ پر اعتماد میں نہیں لیا، مسترد کرتے ہیں:اپوزیشن
عوامی فلاح کا کوئی پروگرام نہیں، حکومتی ارکان خود مسائل کا رونا رو رہے :متحدہ ارکان بجٹ عوام دوست ، اپوزیشن نے بائیکاٹ کرکے اپنے ووٹرز سے زیادتی کی:پیپلز پارٹی
کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی میں ہفتے کو دوسرے روز بھی آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر عام بحث کا سلسلہ جاری رہا، جس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے بھرپور حصہ لیا۔ حکومتی ارکان نے مشکل معاشی حالات میں متوازن بجٹ پیش کرنے پر وزیراعلیٰ سندھ کو مبارکباد دی، جبکہ اپوزیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ بجٹ کی تیاری کے دوران انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، اس لیے وہ اسے مسترد کرتے ہیں۔ بجٹ پر عام بحث میں مجموعی طور پر 40 ارکان نے حصہ لیا۔سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ پیپلز پارٹی کے نور محمد بھرگڑی نے کہا کہ معاشی مشکلات کے باوجود ایک اچھا بجٹ پیش کیا گیا ہے ۔
پیپلز پارٹی کے یوسف بلوچ نے بجٹ کو عوام دوست قرار دیا، جبکہ ملیحہ منظور کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی وجہ سے صوبوں کے وسائل متاثر ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حنا دستگیر نے کہا کہ عوام کو تنخواہوں میں زیادہ ضافے کی توقع تھی، اس لیے بجٹ سے مکمل اطمینان نہیں پایا جا سکا۔ ہالار وسان نے ایک سے 12 ایکڑ تک زرعی آمدنی پر عائد ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ایم کیو ایم کے فہیم پٹنی نے کہا کہ حکومتی ارکان خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، جس سے گزشتہ 18 برس کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
پی ٹی آئی کے ریحان بندوکڑا نے کہا کہ کراچی کے منصوبوں کے لیے صرف فنڈز مختص کیے جاتے ہیں، عملی کام نظر نہیں آتا، جبکہ شہر اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے ۔ایم کیو ایم کی ڈاکٹر فوزیہ حمید نے کہا کہ کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور عوامی فلاح کا کوئی نمایاں پروگرام بجٹ میں شامل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو اس کا جائز حق نہیں مل رہا۔پی ٹی آئی کے ساجد میر نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں لینے کے باوجود روزگار کے لیے دربدر پھر رہے ہیں اور کراچی کے ساتھ ناانصافی بند ہونی چاہیے ۔ایم کیو ایم کے عبدالباسط نے سندھ میں کرپشن کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ بعد ازاں اسپیکر نے اجلاس اتوار کی صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا۔