فوجداری مقدمہ کی بنا پر برطرفی کے بعد بحالی پر تنخواہوں کی ادائیگی پر غور ہونا چاہیے :سپریم کورٹ
اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سرکاری ملازم کو صرف فوجداری مقدمے میں سزا کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کیا گیا ہو اور بعد ازاں وہ مقدمے میں بری ہو کر بحال ہو جائے تو اسے بنیادی قواعد (Fundamental Rule 54) کے تحت واجب الادا تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات کی ادائیگی کے معاملے پر قانون کے مطابق غور کیا جانا چاہیے ۔
تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عبدالسعید کی اپیل منظور کرتے ہوئے خیبر پختونخوا سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا۔ اپیل کنندہ ایس ایس ٹی کو ایک قتل کے مقدمے میں پشاور ہائیکورٹ مینگورہ بینچ نے 2017 میں بری کیا، محکمہ نے ملازمت پر بحال کیا لیکن برطرفی سے بحالی تک کا عرصہ بغیر تنخواہ رخصت شمار کیا۔ عدالت نے متعلقہ مجاز اتھارٹی کو ہدایت کی کہ بنیادی قواعد کے رول 54 کے مطابق ازسرنو غور کرتے ہوئے دو ماہ کے اندر نیا فیصلہ جاری کیا جائے ۔