اسرائیل کو فوجی امداد روکنے جیسی دھمکی کی ضرورت

 اسرائیل کو فوجی امداد روکنے جیسی دھمکی کی ضرورت

داخلی معاشی مسائل کے باعث امریکا ایران دونوں کیلئے مذاکرات اہم

(تجزیہ:سلمان غنی)

امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدہ کو اسرائیلی قیادت ہضم نہیں کر پا رہی اور جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود اس کی جانب سے لبنان پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے جو جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے ، اسرائیل کے اس طرز عمل پر ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمد ورفت کے لئے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس سے معاہدہ پر اچھے اثرات پڑنے کے امکانات نہیں اور یہ سوال کھڑا نظر آ رہا ہے کہ اگر اسرائیل لبنان پر بمباری کے عمل سے ہاتھ نہیں کھینچتا تو معاہدے کا مستقبل کیا ہوگا اور کیا وجہ ہے کہ اسرائیل امریکا ایران معاہدہ پر عمل درآمد سے گریزاں ہے ،اس حوالے سے وہ امریکی ہدایات کا بھی خود کو پابند نہیں سمجھتا، اگر امریکا ایران کے ساتھ طے شدہ ڈیل کی کامیابی کا خواہشمند ہے تو اسے اسرائیلی حملوں کو بند کروانے کے لئے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ہوگا ،اسرائیل کے رویے کی بنا پر لگتا یوں ہے کہ ماضی کے تلخ تجربات اور فریقین کے درمیان عدم اعتماد کی وسیع خلیج کے باعث دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات آسان نہیں ہوں گے ،اسرائیل امریکی دباؤ کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کر رہا لیکن لبنان کے خلاف کارروائیاں اس کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں کہ یہ معاہدہ توڑ نہ چڑھے جسے وہ اپنے لئے سنگین مسئلہ سمجھتا ہے ، اس لئے کہ اسرائیل کو ایران سے شدید خطرہ ہے اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ ایران پر معاشی پابندیوں کا خاتمہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی پوزیشن کو بہتر بنائے گا لہٰذا وہ لبنان میں کشیدگی بڑھا کر اسے ناکام بنانا چاہتا ہے ۔

ایسے میں ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل کو نرمی کا مشورہ کافی نہیں بلکہ اسرائیل کے لئے فوجی امداد روکنے جیسے دھمکی ہی کارگر بن سکتی ہے جس سے امریکا احتراز برت رہا ہے نیتن یاہو پر بھی انتخابات کی تلوار لٹک رہی ہے اور وہ الیکشن جیتنے کے لئے ایران سے جنگ جاری رکھنے کو ہی اپنے مفاد میں سمجھتے ہیں، اسرائیل کے لئے لبنان بفر زون اور فضائی کارروائیوں کی آزادی جیسے معاملات ناقابل گفت و شنید ہیں، اسرائیل کے نزدیک کوئی بھی بیرونی طاقت خواہ وہ امریکا ہی کیوں نہ ہو اس کی بقا سے متعلق فیصلوں کا تعین نہیں کر سکتی ،اسرائیل جانتا ہے کہ وہ امریکا کا بڑا اتحادی ہے لیکن وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ سٹرٹیجک خود مختاری اس کی بقا کے لئے لازم ہے اس لئے وہ امریکی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مفادات کو ترجیح دے گا،ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا ایران معاہدہ پر عمل درآمد چھوٹے بڑے واقعات سے بھی مشروط ہے یہ سلسلہ بھی چلتا رہے گا اور مذاکرات بھی چلیں گے کیونکہ فریقین کے پاس فی الحال یہی آپشن قابل عمل ہے امریکا ایران دونوں کو داخلی معاشی مسائل کی وجہ سے کسی نہ کسی شکل میں مذاکرات کی ضرورت ہے اور اطلاعات یہ ہیں کہ سوئٹزر لینڈ میں مذاکراتی عمل کی بحالی اور پیش رفت کے لئے فریقین وہاں پہنچ رہے ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں