پاکستان کا امن پسندانہ کردار معاشی فائدہ دے سکتا ہے ؟
فوائد معیشت کے گہرے ڈھانچہ جاتی مسائل ختم نہیں کر سکتے :تجزیہ کار ایران پر پابندیاں ہٹیں تو تجارت کی راہیں کھل سکتی ہیں:مفتاح اسماعیل
کراچی (رائٹرز)امریکا ایران جنگ میں امن معاہدہ کرانے میں پاکستان کے کلیدی کردار کو عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے جس سے اسلام آباد کو کچھ معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا سوال ہے کہ کیا یہ فوائد معیشت کے بنیادی اور دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے ؟۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرزکی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں شرکت کی، یہ مذاکرات دنیا کی تاریخ کی اہم ترین سفارتی کوششوں میں سے ایک تھے جن میں پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے مصالحت کار کا کردار ادا کر رہا تھا ، دونوں ممالک اور متعدد عالمی رہنماؤں نے اسلام آباد کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے ایک ایسے تنازع کو کم کرنے میں مدد کی جس سے دنیا کی معیشت کو شدید دھچکا لگتا۔اس کامیابی نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار بڑھایا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 25 کروڑ آبادی والے اس ملک کے پاس اس خیر سگالی کو معاشی فوائد میں بدلنے کا بہترین موقع ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ فوائد معیشت کے گہرے ڈھانچہ جاتی مسائل جیسے سماجی و معاشی عدم مساوات، ٹیکس نیٹ کی کمی اور آئی ایم ایف پر مسلسل انحصار کو ختم نہیں کر سکتے ۔ سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر سے پابندیاں ہٹتی ہیں تو پاکستان اور ایران کے درمیان بالخصوص بلوچستان کی زمینی سرحد کے ذریعے بڑے پیمانے پر تجارت کی راہیں کھل سکتی ہیں۔معاشی تجزیہ کار خرم حسین کے مطابق موجودہ صورتحال 9/11 کے بعد جیسی ہی ہے لیکن ایک بڑا فرق یہ ہے کہ اس بار پاکستان ایک "امن قائم کرنے والے "کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ اس وجہ سے پاکستان کے پاس واشنگٹن، تہران، خلیجی ممالک، ترکیہ اور چین، سب کے ساتھ بیک وقت بہتر تعلقات قائم کرنے کا موقع ہے ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں بنیادی معاشی اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات نافذ نہ کی گئیں تو یہ سفارتی کامیابیاں ملکی معیشت کو مستقل طور پر بحران سے نہیں نکال سکیں گی۔