وزیراعلیٰ نے عادی مجرم بل پر غور کی ہدایت کردی :سپیکر
عوامی تحفظات کے پیش نظر قانون مزید بہتر بنایا جائیگا :ملک محمد احمد ،ایوان میں گفتگو تعلیمی اداروں میں منشیات کیخلاف اوردیگر قرارداد یں منظور ، کاہنہ واقعہ پراظہارافسوس
لاہور (سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے 12 منٹ کی تاخیر سے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت شروع ہوا، جس میں پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز بل 2026ءسب سے اہم موضوع رہا۔ اجلاس کے دوران سپیکر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ بل کے حوالے سے اپوزیشن کے اعتراضات، سول سوسائٹی اور سوشل میڈیا کی آراءکے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بل پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ سپیکر نے کہا کہ اسمبلی سیکرٹریٹ بل محکمہ قانون کو واپس بھیجے گا، جہاں سے اسے کابینہ کے سپرد کیا جائے گا تاکہ اس پر دوبارہ غور کے بعد ضروری ترامیم کی جا سکیں ،بل کو نئے سرے سے تیار کرکے دوبارہ پنجاب اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا ،عوامی تحفظات کے پیش نظر اس قانون کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن رانا شہباز نے تحصیل احمد پور سیال کے ٹی ایچ کیو ہسپتال میں مبینہ غفلت پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر مریضوں کو چیک نہیں کرتے ، جس کی وجہ سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔اجلاس میں حکومتی ارکان ارشد ملک اور آصف بھاہ کے درمیان جاپان کے دورے کے حوالے سے دلچسپ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس پر سپیکر نے بھی مزاحیہ انداز میں اظہار خیال کیا اور ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا۔
اقلیتی رکن فیلبوس کرسٹوفر نے ایف سی سی کالج لاہور کے نیلا گنبد ہاسٹل پر ضلعی انتظامیہ کے قبضے کے خلاف احتجاج کیا تو وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے یقین دہانی کرائی کہ والڈ سٹی اتھارٹی عمارت کی تزئین و آرائش مکمل کرنے کے بعد ہاسٹل کالج انتظامیہ کے حوالے کر دے گی ۔اجلاس میں حکومتی رکن مہوش سلطانہ کی جانب سے پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی کم صلاحیت کے حوالے سے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ،ایوان نے وفاقی حکومت سے نئے ڈیموں اور آبی ذخائر کی فوری تعمیر، جدید واٹر مینجمنٹ سسٹم، مؤثر آبپاشی نظام، بین الصوبائی اتفاق رائے اور عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کی سفارش کی۔اسی طرح حکومتی رکن عظمیٰ جبیں کی تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے استعمال کیخلاف قرارداد ،حکومتی رکن شگفتہ فیصل کی پنجاب اسمبلی کو مکمل ڈیجیٹل اور پیپر لیس اسمبلی بنانے کی قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔ پینل آف چیئرپرسن سمیع اللہ خان نے بتایا کہ پیپر لیس بجٹ پیش کرنے سے بجٹ بکس کی مد میں 14 کروڑ 62 لاکھ 50 ہزار روپے کی بچت ہوئی ہے ،پہلے ایک رکن کے بجٹ بکس کیلئے 34 ہزار سے زائد صفحات استعمال ہوتے تھے اور فی رکن 2 لاکھ 25 ہزار روپے سے زائد لاگت آتی تھی۔
اجلاس میں پارلیمانی نظام کے عالمی دن کے موقع پر چیف وہپ رانا ارشد، رانا شہریار، احمد اقبال، ملک احمد سعید اور نسیم انجم نے جمہوری نظام، آئین، عوامی نمائندگی اور بلدیاتی اداروں کی مضبوطی پر زور دیا۔ احمد اقبال نے کہا کہ عوام کو اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بھی ضروری ہے ۔ ملک احمد سعید نے لوکل گورنمنٹ کے مؤثر نظام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔بعد ازاں لاہور کے علاقے کاہنہ میں نجی ٹیوشن اکیڈمی کی چھت گرنے سے بچوں کی اموات کا معاملہ بھی ایوان میں زیر بحث آیا۔ سپیکر نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے متاثرہ خاندانوں کی بھرپور مالی امداد اور زخمیوں کے بہترین علاج کی درخواست کی۔اجلاس کے دوران دو نجی جامعات کے قیام سے متعلق بل منظور کیے گئے جبکہ ایک نئی نجی یونیورسٹی کے قیام کا بل بھی متعارف کرایا گیا۔ تمام کارروائی مکمل ہونے کے بعد پینل آف چیئرپرسن راجا شوکت بھٹی نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا۔