پاکستان کا پانی روکنا قانونی اور تکنیکی طور پر آسان نہیں
سندھ طاس معاہدہ کوغیر موثر بنانے کی کوشش خطے کیلئے خطرناک ہو سکتی ہے
(تجزیہ:سلمان غنی)
پانی جیسے اہم ایشو پر اسلام آباد میں انڈس واٹر ٹریٹی کے حوالہ سے منعقدہ کانفرنس کو اپنے مقاصد ،ٹائمنگ اور اہمیت کے حوالہ سے بروقت اور سنجیدہ قرار دیا جا سکتا ہے جس میں ملکی و عالمی ماہرین کا کہنا تھا کہ پانی کا بہاؤ روکنا جنگی جرم ہے اور بھارت دریائے سندھ کے نظام پر اثر انداز ہو کر خطہ میں جنگی صورتحال پیدا کرنے کا مرتکب ہو رہا ہے جو کسی طرح بھی انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ،مقررین نے اپنے اپنے انداز میں جہاں انڈس واٹر ٹریٹی کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا وہاں یہ بھی واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر معاہدہ منسوخی سرا سر آبی دہشت گردی ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا، پاکستانی حکومتی ذمہ داروں نے واضح کیا کہ پاکستان کے لئے پانی کا ایشو سرخ لکیر ہے جو پاکستان کی سلامتی سے جڑا ہوا ہے ، لہٰذا اس حوالہ سے کوئی دباؤ اور بلیک میلنگ برداشت نہیں ہوگی۔ مذکورہ کانفرنس کی روشنی میں بڑا سوال یہی نظر آتا ہے کہ بھارت اس معاہدے پر یکسر کیونکر دستبردار ہوا اور اس کے اس عمل کے نتائج کیا ہوں گے ، بھارت کا یہ طرز عمل صرف آبی مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان پر سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے لیکن عملاً مکمل طور پر پاکستان کا پانی روکنا نہ قانونی طور پر آسان ہے اورنہ ہی تکنیکی طور پر، اس لئے کہ پانی کا تنازعہ جنوبی ایشیا کے امن سے جڑا ہوا ہے ،سندھ طاس معاہدہ کئی جنگوں کے باوجود قائم رہا اس لئے اسے یکسر طور پر غیر موثر بنانے کی کوشش خطے کے لئے خطرناک بن سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت اس وقت نفسیاتی کیفیت سے دوچار ہے اور اس کی بڑی وجہ گزشتہ سال پاکستانی افواج کے ہاتھوں اسے ہونے والی شرمناک شکست ہے جس میں دنیا بھر میں اسے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور یہ پیغام عالمی سطح پر نمایاں ہوا کہ پاکستان بھارت کے مقابلہ میں ناقابل تسخیر بھی ہے اور دفاعی اعتبار سے خود انحصاری کی منزل پر پہنچ چکا ہے اور کوئی اس پر غالب نہیں آ سکتا ، یہی وہ تاثر ہے جس نے بھارتی لیڈر شپ کو پریشان کر رکھا ہے ،عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کام خواہشات سے ممکن بننے والا نہیں اور نہ ہی پانی کو روکنا اتنا آسان ہے ،بھارت کی دھمکیوں کا مقصد خود کو اس پریشان کن صورتحال سے نکالنا ہے جس سے وہ گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے گرفتار ہے ،ماہرین یہ کہتے نظر آ رہے ہیں حساس معاملات کو تصادم کی بجائے معاہدوں اور سفارتی ذرائع سے ہی حل کرنا فریقین کے مفاد میں ہوتا ہے کیونکہ مسلسل کشیدگی کسی بھی خطے کے استحکام کو متاثر کرتی ہے۔
پانی جیسے ایشو پر سخت بیانات اور عملی اقدامات میں فرق ہو سکتا ہے اس لئے کہ کسی بھی نئی پیش رفت کا جائزہ صرف اعلانات کی بنا پر نہیں بلکہ عملی فیصلوں، قانونی اقدامات اور زمینی صورتحال کو دیکھ کر کرنا چاہئے ، عالمی قوانین کے مطابق سندھ طاس معاہدہ ختم کرنا آسان نہیں، یہ معاہدہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوا تھا ، ورلڈ بینک اس کا ضامن اور سہولت کار ہے اس لئے قانونی ماہرین بڑے واضح انداز میں یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ بھارت صرف اعلان سے معاہدے کو ختم نہیں کر سکتا۔ اگر بھارت مغربی دریاؤں پر اپنی گنجائش کے مطابق مزید آبی منصوبے بناتا ہے تو پا کستان کے لئے پانی کے بہاؤ کو متاثرکر سکتا ہے اگرچہ مکمل طور پر پانی روکنا عملی طور پر ممکن نہیں،جہاں تک اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس کے اثرات کا تعلق ہے تو پا کستان دراصل دنیا کے سامنے اپنا کیس رکھ رہا ہے کہ وہ مسئلہ کو دوطرفہ تنازع کی بجائے عالمی قوانین اور معاہدوں کے تناظر میں دیکھ رہا ہے اور دنیا بھر کے عالمی ماہرین کی اس کانفرنس میں شرکت اس مسئلہ کی عالمی و علاقائی توجہ بڑھا سکتی ہے تاہم یہ ایک طویل سفارتی اور قانونی جنگ کا آغاز ہے جس کے اثرات آنے والے حالات میں واضح ہوں گے البتہ مذکورہ کانفرنس میں پاکستان کی لیڈر شپ کے طرز عمل کو جرات مندانہ اور حقیقت پسندانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔