ٹریکٹر، جدید زرعی مشینری، آسان قرض فراہمی، کسان کو بااختیار بنا دیا : مریم نواز
انٹرن شپ پروگرام کے اگلے مرحلے میں مزید 1500 ایگری گریجویٹس کو شامل،ماڈل ایگری مالز کا ڈیزائن منظور اجلاس میں تھل کے پسماندہ علاقوں میں 10ہزار ایکڑ پر مالٹے کے باغات لگانے ،تھل ٹرانسفارمیشن پروگرام کی منظوری سپیکر ملک احمدکی وزیر اعلیٰ سے ملاقات ، دو سالہ کارکردگی کو تاریخی اور بے مثال دور قرار دیکر خراجِ تحسین پیش کیا
لاہور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبے میں بڑا زرعی انقلاب ، 9 لاکھ کسان کارڈز تقسیم کردیئے گئے ہیں جبکہ360 ارب کے قرض جاری کیے جاچکے ہیں اور99 فیصدقرض کی ریکوری بھی مکمل کر لی گئی ہے ۔ پنجاب حکومت نے 24 ہزار گرین ٹریکٹر، 10 لاکھ کی سبسڈی،12 ہزار سپر سیڈرز اور 10 مزید ماڈل ایگری مالز پنجاب کے کسانوں کے لئے فراہم کیے ہیں۔ صوبہ پنجاب ایک ملین کسان کارڈز کی فراہمی کے تاریخی ہدف کو31 اگست 2026 تک مکمل کر لے گا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کسان کو کھاد مافیا سے مستقل تحفظ دیا،سوا دو سال سے ابتک یوریا کی قیمتیں کنٹرول میں ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت محکمہ زراعت کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں کسان کارڈ اور زرعی میکانائزیشن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی آڈٹ فرم KPMG کسان کارڈ کے اثرات کی رپورٹ 30 ستمبر تک پیش کرے گی اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے کسان کارڈ پروگرام کی عالمی سطح پر تشہیر کی جائے گی۔
اس موقع پر انٹرن شپ پروگرام کے اگلے مرحلے میں مزید 1500 ایگری گریجویٹس کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ماڈل ایگری مالز کا ڈیزائن منظور، تصویری شواہد اور ماڈل پیش کر دئیے گئے ۔صوبہ بھر میں 10 نئے اور جدید سہولیات سے لیس ماڈل ایگری مالز بنائے جائیں گے ، وزیر اعلیٰ نے تھل ٹرانسفارمیشن پروگرام کی منظوری دے دی ہے ۔ اجلاس میں تھل ریجن میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے 1000 تالاب اور آبپاشی سکیمیں متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تھل کے پسماندہ علاقوں میں 10,000 ایکڑ پر مالٹے کے باغات لگانے کی بھی منظوری دیدی ہے ۔ کسان کارڈ پروگرام میں مزید 50 ہزار کاشتکاروں کا اضافہ کرکے 10 لاکھ کے ہدف کو جلد پورا کیا جائیگا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ جون 2027 تک کسانوں کو مجموعی طور پر 2000 جدید زرعی مشینوں کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔
خریف کی فصل کے لیے 116 ارب کا قرضہ فراہم کیا گیاجس میں سے 62 ارب روپے استعمال ہو چکے ہیں۔ خریف قرضوں کا 75 فیصد حصہ کاشتکاروں نے خالصتاً کھاد پر خرچ کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ ہم نے کسان کو حقیقی معنوں میں ایمپاور کیا ہے ۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار 3 سال میں 50 ہزار ٹریکٹرز دئیے جائیں گے ۔ جسمانی تصدیق کے دوران 35 ٹریکٹرز موقع پر موجود نہ ہونے پر الاٹیز کو نوٹسز جاری کر دئیے گئے ۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ جون 2027 تک کسانوں کو مجموعی طور پر 2000 جدید زرعی مشینیں فراہم کی جائیں گی۔ پانی کی بچت کے لیے پنجاب بھر میں نہری کھالوں کی پختگی کا عمل تیزی سے جاری ہے ۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو کھاد کی رسد، طلب اور مارکیٹ قیمتوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان یوریا کھاد کی مقامی پیداوار اور ضروریات میں مکمل طور پر خودکفیل ہے ۔
صوبے میں گزشتہ سوا دو سال سے کھاد کی قیمتوں کو 4400 سے 4500 روپے کی حد تک برقرار رکھا گیا ہے ۔ بعدازاں مریم نواز سے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، صوبے کی سیاسی صورتحال اور بجٹ اجلاس پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سپیکرپنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے وزیر اعلیٰ کی دو سالہ کارکردگی کو تاریخی اور بے مثال دور قرار دیکر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ محمد احمد خان نے پنجاب میں پہلی بار اضلاع اور تحصیل کی سطح پر الیکٹرک بسیں چلانے کے اقدام کی بھرپور ستائش کی۔ وزیر اعلیٰ نے سپیکر محمد احمد خان کی پنجاب اسمبلی کے لیے خدمات کا اعتراف کیااور زبردست تعریف کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن کے لیے سپیکر کے اقدامات انتہائی شاندار ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے پنجاب میں تیز ترین رسپانس اور گڈ گورننس کا ایک مثالی ماڈل قائم کر دیا ہے ۔ پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس عوامی امنگوں کا ترجمان اور صوبے کی ترقی کا سنگِ میل ثابت ہوگا۔