26نومبراحتجاج:علیمہ کو سوالنامے کے جواب کیلئے مہلت
دستاویزات بھی پیش کرنی ہیں وقت دیاجائے :وکیل،مزیدملزمان کے بیانات طلب پتہ ہے انصاف نہیں ملنا،بھائی کے تمام حقوق کی بحالی چاہتے ہیں:ہمشیرہ بانی پی ٹی آئی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمہ میں وکیل صفائی کی جانب سے 342 کا بیان جمع کرانے کے لیے مہلت کی استدعا منظور کرلی، تھانہ صادق آباد میں درج مقدمہ میں نامزد ملزمہ علیمہ خان اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں۔ وکیل صفائی نے 342 کا بیان جمع کرانے کیلئے عدالت سے مہلت مانگتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سوالنامہ کے جواب کے ساتھ ہم نے کچھ دستاویزات بھی پیش کرنی ہیں جس پر عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے مقدمہ میں نامزد تین ملزمان کے 342 کے بیانات بھی طلب کر لیے ،بعدازاں سماعت 3 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔واضح رہے کہ عدالت نے علیمہ خان کو 37 سوالات پر مشتمل سوالنامہ گزشتہ سماعت پر فراہم کیا تھا۔عدالت کے باہرگفتگوکرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا عدالتوں میں صرف کارروائیاں ہورہی ہیں ہمیں کسی عدالت سے انصاف نہیں ملنا یہ ہمیں پتہ ہے ، علیمہ خان نے کہا یہ چاہتے ہیں نورین خان سے ایک رسمی ملاقات کرائیں پھر 6 ماہ بانی کو قید تنہائی میں ڈال دیں، ہم بھائی سے رسمی ملاقات نہیں ان کے تمام آئینی حقوق کی بحالی چاہتے ہیں ،پارٹی بھی یہی موقف اختیار کرے ۔ ہم اپنے مطالبات پر کھڑے تھے ، کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔