بھارت نے یاسین ملک کو 36سال پرانے قتل میں ملوث کر دیا

بھارت نے یاسین ملک کو 36سال پرانے قتل میں ملوث کر دیا

1990میں سرلا بھٹ قتل کے وقت یاسین زخمی ،خفیہ مقام پر زیر علاج تھے انسانی حقوق کی تنظیمیں اپناکردار ادا کریں،ترجمان جے کے ایل ایف کی اپیل

اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار)جے کے ایل ایف نے بھارت کی جانب سے پارٹی چیئر مین یاسین ملک کو 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں چارج شیٹ کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام اور آزادی پسند قیادت کو خاموش کرانے کی کوشش قرار دیا ہے ۔ لبریشن فرنٹ کے ترجمان رفیق ڈار نے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت مختلف مقدمات کے ذریعے یاسین ملک کو سزائے موت دلوانے کی کوشش کر رہی ہے اور اسی سلسلے میں اب انہیں 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ملوث کیا گیا ہے ۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سرلا بھٹ کے قتل کے وقت یاسین ملک شدید زخمی حالت میں ایک خفیہ مقام پر زیر علاج تھے ، کیونکہ 8 اپریل 1990 کو بھارتی فورسز کے ایک آپریشن کے دوران وہ پانچ منزلہ عمارت سے چھلانگ لگانے کے باعث شدید زخمی ہوگئے تھے ،لبریشن فرنٹ نے عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بھارت کی سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ یاسین ملک کی جان کے تحفظ، منصفانہ قانونی عمل کو یقینی بنانے کیلئے مؤثر کردار ادا کریں۔ دریں اثنا پارٹی ترجمان نے آزاد کشمیر میں جاری سیاسی بحران پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ اس مسئلے کا حل طاقت یا خونریزی کے بجائے بامعنی مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں