مودی کا ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں جانے سے انکار

مودی کا ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں جانے سے انکار

تدفین میں شرکت نہ کرنا مودی کی کھوکھلی سفارتکاری کی عکاسی :بھارتی تجزیہ کار مودی کو ڈر ہے کہ ایران گیا تو امریکا ، اسرائیل ناراض ہو جائیں گے :پروین ساہنی بھارتی وزیر اعظم کو دوغلی پالیسی پر ملک میں بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا

اسلام آباد(اے پی پی)نریندرمودی کے ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں جانے سے انکار پر بھارتی دوغلی پالیسی عیاں ہو گئی۔ ایرانی سپریم لیڈرخامنہ ای کی آخری رسومات میں مودی کی عدم شمولیت اسرائیل اور بی جے پی کے گٹھ جوڑ کاواضح ثبوت ہے ۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مودی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت نہیں کریں گے ، بہار کے گورنر اور وزیر مملکت برائے خارجہ کو بھیجا گیا ہے ، ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین پر جانے سے انکار پر بھارت کے اندر سے بھی مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہاہے ۔

بھارتی تجزیہ کار پروین ساہنی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی ایران اس لیے نہیں جا رہے کہ امریکا اور اسرائیل ناراض نہ ہو جائیں ۔ بی جے پی کے حامی بھارتی دفاعی تجزیہ کار جے ڈی بخشی نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اندرا گاندھی کی آخری رسومات میں ایرانی سپریم لیڈر خود تشریف لائے مودی کو بھی جانا چاہیے ، دعوت کے باوجود ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین میں شرکت نہ کرنا مودی کی کھوکھلی سفارتکاری کی عکاسی ہے ، ایک جونیئر وزیر مملکت اور صوبائی گورنر کو بھیجنا ان کی ترجیحات کو واضح کرتا ہے ۔ اسرائیل کوفادر لینڈ کہنے والا مودی ایران کے سپریم لیڈر کی تدفین میں شرکت سے گھبرا رہاہے ، ایران سے تیل ، تجارت اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر تعاون کا طلب گار دوغلی پالیسی پر کاربند ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں