شہید خامنہ ای کی تدفین ،پاکستان کی ایران سے قربت نمایاں
اعلیٰ سطح کا وفدپیغا م ہے کہ پاکستان مشکل گھڑ ی میں دوست ملک کیساتھ ہے
(تجزیہ:سلمان غنی )
دنیا بھر کی نظریں ایران کے سپریم لیڈر شہید سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات پر مرکوز ہیں،نمازِ جنازہ اور تدفین میں لاکھوں بلکہ ممکنہ طور پر ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے جبکہ غیر ملکی وفود اور متعدد ممالک کی قیادت بھی تہران پہنچ رہی ہے ۔ اگر یہ تعداد درست ثابت ہوتی ہے تو یہ جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہوگی۔پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے آخری رسومات میں شرکت محض سفارتی روایت نہیں بلکہ ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور برادرانہ تعلقات کے اظہار کے طور پر دیکھی جا رہی ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سمیت اعلیٰ وفد کی موجودگی نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان مشکل گھڑی میں اپنے ہمسایہ اور دوست ملک کے ساتھ کھڑا ہے ۔
ایران کی قیادت اس موقع کو قومی اتحاد، ریاستی استحکام اور نظامِ ولایتِ فقیہ کے تسلسل کے اظہار کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے ۔ نمازِ جنازہ اور تدفین میں عوام کی غیر معمولی شرکت کو ایرانی عوام کی مذہبی وابستگی اور قومی یکجہتی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے تاہم اس تقریب کی حقیقی اہمیت کا اندازہ اس امر سے ہوگا کہ نئی قیادت داخلی استحکام اور خارجہ پالیسی میں کیا سمت اختیار کرتی ہے ۔پاکستان اور ایران کے تعلقات کی بنیاد تاریخی اور برادرانہ روابط پر قائم ہے ۔ ایران ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ حالیہ ایران امریکا کشیدگی اور اسرائیلی حملوں کے دوران پاکستان نے ابتدا ہی سے جنگ کی مخالفت، جنگ بندی کی حمایت اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل پر زور دیا۔ اسی متوازن مؤقف نے پاکستان کو دونوں ممالک کے درمیان قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر نمایاں کیا۔پاکستانی قیادت نے شہید سید علی خامنائی کی شہادت کو عالمِ اسلام کا بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا تھا جبکہ آخری رسومات میں شرکت اسی تسلسل کا حصہ ہے ۔
اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں مزید اضافہ اور مستقبل میں سیاسی، سفارتی، معاشی اور تجارتی تعاون کے فروغ کی توقع کی جا رہی ہے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی خطے میں توازن، اعتدال اور مذاکرات کے اصولوں پر استوار ہے ۔ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ بھی دوستانہ روابط کو اہمیت دی اور کسی علاقائی محاذ آرائی کا حصہ بننے کے بجائے مفاہمت کی راہ اختیار کی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ بحران کے دوران دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مسلسل رابطوں نے باہمی اعتماد کو مزید مضبوط کیا۔ اسی تناظر میں پاک ایران تجارت کو آئندہ برسوں میں مزید وسعت دینے ، توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور سرحدی تجارت کو فروغ دینے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے ۔
پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا مشترکہ طور پر تہران جانا اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ قومی سلامتی اور اہم خارجہ امور پر ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی موجود ہے ، یہ پیغام نہ صرف ایران بلکہ عالمی برادری کیلئے بھی اہم ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے ۔اگرچہ شہید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں غیر معمولی عوامی شرکت کو ایران کے اندر قومی اتحاد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے تاہم اس کے حقیقی سیاسی اثرات آنے والے دنوں میں ایران کی داخلی سیاست، امریکا کے ساتھ مذاکرات اور خطے کی مجموعی صورتحال سے وابستہ ہوں گے ۔ پاکستان کیلئے بھی یہ موقع دونوں ممالک کے درمیان سٹرٹیجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور علاقائی امن کیلئے اپنے سفارتی کردار کو مو ٔثر انداز میں آگے بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے ۔