نیب کراچی : 348 ملین کی چار ضبط جائیدادیں حکومت کے سپرد
کراچی(سٹاف رپورٹر)قومی احتساب بیورو کراچی نے 348 ملین روپے مالیت کی چار ضبط شدہ جائیدادوں کا قبضہ ڈائریکٹر جنرل اسٹیٹ، وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس، حکومت پاکستان کے حوالے کر دیا۔
یہ جائیدادیں بدعنوانی اور آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے مقدمے میں سزا یافتہ سابق رکن قومی اسمبلی عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ سے ضبط کی گئی تھیں۔ نیب کراچی کے مطابق ملزمان کے خلاف انکوائری اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد احتساب عدالت کراچی میں ریفرنس نمبر 44/2001 دائر کیا گیا تھا۔ احتساب عدالت نے 28 جون 2002 ئکو فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزموں کو سات، سات سال قید بامشقت، ایک، ایک ملین روپے جرمانے اور چار جائیدادیں ضبط کرنے کی سزا سنائی تھی۔نیب کے مطابق سزا یافتہ ملزموں نے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیلیں دائر کیں، تاہم دونوں عدالتوں نے اپیلیں مسترد کر دیں، جس کے بعد نیب کراچی نے عدالتی احکامات کی روشنی میں چاروں جائیدادوں کا قبضہ حاصل کر لیا۔
ضبط کی گئی جائیدادوں میں گھر نمبر 15/1، گلی نمبر 30، خیابان شمشیر، فیز V ایکسٹینشن، ڈی ایچ اے کراچی، پلاٹ نمبر A-21/4-1 (رقبہ 816.44 مربع گز) کے ڈی اے اسکیم A-1 ایکسٹینشن کراچی، پلاٹ نمبر B-133 سیکٹر B-11، ہاکس بے اسکیم 42، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی، اور پلاٹ نمبر A-59 سیکٹر C-16، ہاکس بے اسکیم 42، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی شامل ہیں۔ نیب کراچی میں منعقدہ تقریب کے دوران ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی شکیل احمد درانی نے مذکورہ جائیدادوں کا قبضہ ڈائریکٹر جنرل اسٹیٹ، وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس عبید الدین کے حوالے کیا۔ اس موقع پر ڈی جی نیب کراچی شکیل احمد درانی نے کہا کہ نیب لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی اور اسے متاثرہ محکموں اور افراد تک پہنچانے کے اپنے عزم پر قائم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد کی قیادت میں ادارہ پیشہ ورانہ مہارت اور بھرپور عزم کے ساتھ بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔