غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی، تین ملزموں کے ڈی این اے میچ کرگئے
نواز کا نام سرفہرست اسی کے اکسانے پر دیگر کے ملوث ہونے کا شبہ،5 ملزموں کے ڈی این اے نمونوں کا تجزیہ جاری باس کا کردار ادا کرنیوالا وحید پولیس مقابلے ، قتل،گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری میں ملوث، گاڑی ٹکرانے کا مقدمہ درج
لاہور (کرائم رپورٹر)ڈیفنس کے علاقے میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ، ذرائع کے مطابق تین ملزموں کے ڈی این اے نمونے متاثرہ خاتون سے میچ کر گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی این اے میچ ہونے والے ملزمان میں نواز نامی ملزم کا نام سرفہرست ہے ،نواز پر ابتدائی طور پر واقعے میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام ہے ، جبکہ اسی کے اکسانے پر دیگر ملزمو ں کے ملوث ہونے کا بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔پولیس نے مجموعی طور پر 8 ملزموں کے ڈی این اے سیمپلز فرانزک جانچ کیلئے لیبارٹری بھجوائے تھے ، جن میں سے تین کے نمونے متاثرہ خاتون کے نمونوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ذرائع کے مطابق دیگر ملزمان کے ڈی این اے سیمپلز کا تجزیہ جاری ہے ، جبکہ پولیس واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے ۔
حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ اور مزید شواہد کی روشنی میں کیس کو آگے بڑھایا جائے گا۔ اور تمام ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ دریں اثنا 'باس' کا کردار ادا کرنے والے ملزم وحید طاہر کے حوالے سے مزید حقائق سامنے آئے ہیں ، پولیس ذرائع کے مطابق ملزم وحید طاہر کا تعلق اوکاڑہ کے علاقے عزیز پارک سے ہے ۔ ملزم کی فیملی اوکاڑہ میں رہتی ہے ، جبکہ وہ خود لاہور میں مقیم تھا۔ ملزم کے خلاف قتل، پولیس مقابلے ، گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری سمیت متعدد مقدمات درج ہیں۔دونوں غیر ملکی خواتین پر مبینہ تشدد کرنے والے افراد ملزم وحید طاہر کے گن مین تھے ۔ ملزم نے پانچ لاکھ ڈالر ادا نہ کرنے کی صورت میں انسانی اعضا فروخت کرنے کی دھمکیاں دیں۔ملزم عرصہ دراز سے انسانی اعضاء کی غیرقانونی پیوند کاری کے مکروہ دھندے میں ملوث رہا ہے ۔ ملزم کو ماضی میں گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کے الزام میں گرفتار بھی کیا جا چکا ہے ۔ملزم آئس کے نشے کا عادی ہے ۔ملزم طویل عرصے سے جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے ۔
ملزم لاہور میں شناخت چھپانے کے لیے بار بار رہائش تبدیل کرتا ہے ۔ ملزم وحید طاہر کا شناختی کارڈ اور تصویر بھی منظرِ عام پر آ گئی ہے ۔ علاوہ ازیں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کیس کے ملزمان کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق ساؤتھ کینٹ تھانے میں مقدمہ شہری عثمان کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یکم جولائی کو شام تقریباً پونے آٹھ بجے وہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے بھٹہ چوک جا رہا تھا کہ ائیرپورٹ روڈ پر ٹویوٹا موٹرز کے قریب ایک تیز رفتار گاڑی نے اس کی کار کو ٹکر مار دی، حادثے کے نتیجے میں مدعی کی گاڑی کو تقریباً تین لاکھ روپے مالیت کا نقصان پہنچا، جبکہ ٹکر مارنے والی گاڑی کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کے فوراً بعد عثمان نے ہیلپ لائن 15 پر کال کی، جس پر پولیس موقع پر پہنچی۔ اسی دوران ٹکر مارنے والی گاڑی میں موجود غیر ملکی خواتین گاڑی سے اتر کر اپنی جان بچانے کے لیے قریب واقع ایک دکان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئیں۔ بعد ازاں ہونے والی تحقیقات میں یہی واقعہ غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کیس سے منسلک پایا گیا۔ جبکہ حادثے میں ملوث گاڑی کو بھی اسی کیس کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے ۔پولیس کے مطابق مقدمے کی تفتیش جاری ہے ۔