بلوچستان، پنجاب میں غیر ملکی منصوبوں میں تاخیر ،کمیٹی برہم

بلوچستان، پنجاب میں غیر ملکی منصوبوں میں تاخیر ،کمیٹی برہم

متعلقہ اداروں کو منصوبوں کی بروقت تکمیل، مؤثر نگرانی اور شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت ایک ہفتے میں سائٹ انسپیکشن رپورٹس، دستاویزی شواہد اور پیشرفت کی تفصیلات طلب

اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے ،اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کی ذیلی کمیٹی نے بلوچستان اور پنجاب میں غیرملکی امداد سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور لاگت میں غیرمعمولی اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو منصوبوں کی بروقت تکمیل، مؤثر نگرانی اور شفاف عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔ کمیٹی نے ایک ہفتے کے اندر تمام منصوبوں کی سائٹ انسپیکشن رپورٹس، دستاویزی شواہد اور پیش رفت کی تفصیلات طلب کر لیں۔سینیٹر سید وقار مہدی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بلوچستان اور پنجاب میں غیرملکی امداد سے جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

بلوچستان کے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے حکام نے بتایا کہ صوبے میں 11 شعبوں میں غیرملکی معاونت سے منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ 2015 سے شروع کیے گئے 45 منصوبوں میں سے 14 مکمل ہو چکے ہیں اور باقی مختلف مراحل میں ہیں۔ حکام کے مطابق منصوبوں میں تاخیر کی بڑی وجوہات میں سرکاری اداروں کی جانب سے بین الاقوامی قواعد کے مطابق پروکیورمنٹ کا عمل بروقت مکمل نہ ہونا شامل ہے جس سے منصوبوں کی لاگت بھی نمایاں طور پر بڑھ رہی ہے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 24 کلومیٹر طویل ایک سڑک کے منصوبے کی لاگت 54 کروڑ روپے سے بڑھ کر دو ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے ۔اجلاس میں سینیٹر روبینہ خالد نے ترقیاتی منصوبوں کی شفاف نگرانی کے لیے آزادانہ تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن، تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے پیش رفت رپورٹ کرنے کی سفارش کی جبکہ وزارتِ اقتصادی امور کے حکام نے بتایا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشترکہ جائزہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ کمیٹی نے تمام متعلقہ اداروں کو عملدرآمد کی رفتار تیز کرنے ، پروکیورمنٹ نظام مؤثر بنانے اور عوامی وسائل کے ضیاع کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں