پٹرولیم لیوی کیخلاف درخواست ناقابل سماعت قرار،خارج

پٹرولیم لیوی کیخلاف درخواست  ناقابل سماعت قرار،خارج

کراچی(سٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار اور پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے خلاف دائر آئینی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے ابتدائی مرحلے پر ہی خارج کر دی۔

جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست گزار سید خالد شاہ کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود وفاقی حکومت نے عوام کو اس کا فائدہ منتقل نہیں کیا بلکہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں اضافے کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مصنوعی طور پر بلند رکھیں، جس کے باعث مہنگائی، ٹرانسپورٹ، زرعی لاگت، صنعتی پیداوار اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہوا۔ درخواست میں حکومت کو پٹرولیم قیمتوں کا شفاف فارمولا جاری کرنے ، قیمتوں کا ازسرِنو تعین کرنے اور پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کو معقول سطح پر لانے کی ہدایت دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی، ٹیکسوں اور دیگر مالیاتی پالیسیوں کی تشکیل بنیادی طور پر وفاقی حکومت کے انتظامی اور پارلیمانی اختیارات کا حصہ ہے۔

جن میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالتیں معمول کے مطابق مداخلت نہیں کرتیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ حکومتی اقدامات کسی لازمی قانونی تقاضے کے خلاف، بدنیتی پر مبنی، امتیازی یا آئینی طور پر غیرقانونی ہیں۔ صرف حکومتی معاشی یا مالیاتی پالیسی سے اختلاف آئینی درخواست دائر کرنے کے لیے کافی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں عالمی خام تیل کی قیمت، شرح تبادلہ، فریٹ، ریفائننگ لاگت، ٹیکس، لیوی اور دیگر معاشی عوامل شامل ہوتے ہیں، جن کا جائزہ لینا آئینی عدالت کا نہیں بلکہ متعلقہ ماہرین اور پالیسی ساز اداروں کا اختیار ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں