کارگو طیارے کا ملبہ مل گیا، عملے کی تلاش، تحقیقات تیز، کے ٹو ایئر ویز کا آفس سیل
ملبہ سمند ر سے اوڑمارہ کے جنوب میں ملا، پاک بحریہ اور میری ٹائم سکیورٹی کا آپریشن جاری، تحقیقاتی ٹیم بھی کراچی پہنچ گئی طیارے کوپائلٹ رضوان اورفیصل جتوئی اڑا رہے تھے ، ایئرلائن ریکارڈ اور حفاظتی ضوابط کا جائزہ، صدر،وزیراعظم کا اظہار افسوس
کراچی،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں،نامہ نگار،سٹاف رپورٹر)نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے شارجہ سے کراچی آنے والے کارگو طیارے کے بحیرۂ عرب میں لاپتہ ہونے کے بعد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے ۔ پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے )کے مطابق 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے مشترکہ آپریشن کے دوران طیارے کا ملبہ بلوچستان کے ساحلی علاقے اوڑمارہ سے 53 ناٹیکل میل جنوب میں سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔ ملبے کی نشاندہی کے بعد مزید شواہد اور عملے کے ارکان کی تلاش جاری ہے ۔بیورو آف ایئرکرافٹ سیفٹی انویسٹی گیشن کی 11 رکنی تحقیقاتی ٹیم اسلام آباد سے کراچی پہنچ گئی۔
ٹیم جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے ساتھ کے ٹو ایئرویز کے دفاتر میں تکنیکی ریکارڈ، طیارے کی مینٹی نینس لاگ بکس، پرواز سے متعلق دستاویزات اور عملے کی تفصیلات کا جائزہ لے گی۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی دیکھا جائے گا کہ قومی اور بین الاقوامی حفاظتی ضوابط پر مکمل عمل کیا گیا تھا یا نہیں۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے کے ٹو ایئرویز کا مرکزی دفتر سیل کر دیا جبکہ آپریشنل ضروریات کے پیش نظر کمپنی کے ایک دفتر کو کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق بوئنگ 737 کو حادثہ نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کے باعث پیش آیا، طیارے کو پائلٹ رضوان ادریس اور فیصل جتوئی اڑا رہے تھے جبکہ اس میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حادثے پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عملے کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور پاکستان سول ایوی ایشن، پاک بحریہ اور پاکستان ایئر فورس کو سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیاں تیز کرنے اور تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی نجی کارگو طیارے کے بحیرۂ عرب میں لاپتہ ہونے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔