ٹیرف معاملہ: پاک، امریکا تجارتی مذاکرات آج واشنگٹن میں ہونگے
سیکرٹری کامرس جواد پال کی سربراہی میں پاکستانی وفد واشنگٹن پہنچ گیا جو امریکی حکام سے دو روزہ مذاکرات کرے گا پاکستان پر 19 فیصد اور نئے 10 سے 12.5 فیصد امریکی ٹیرف عائد، دوطرفہ تجارت اور تجارتی تعاون بھی زیر بحث آئیگا
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات آج واشنگٹن میں ہوں گے ۔ ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روزنامہ دنیا کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کا ایک وفد امریکا پہنچ چکا ہے جو امریکی حکام سے مذاکرات کرے گا۔ یہ تجارتی وفد وفاقی سیکرٹری کامرس جواد پال کی سربراہی میں امریکا گیا ہے۔ وفد میں دفتر خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔ پاکستانی وفد امریکی حکام کے ساتھ تجارتی ٹیرف سے متعلق مذاکرات کرے گا اور اس کے علاوہ دوطرفہ تجارت بھی زیر غور آئے گی۔ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ مذاکرات دو دن جاری رہیں گے۔
امریکہ کی جانب سے پاکستان پر 19 فیصد ٹیرف عائد ہے جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے ۔ تاہم گزشتہ دنوں امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نیا ٹیرف عائد کر دیا ہے جس کی شرح 10 سے 12.5 فیصد ہے ۔ یہ ٹیرف پاکستان سمیت امریکا نے اپنے اتحادی ممالک پر بھی عائد کیا ہے ، اس لیے پاکستان اور امریکا کے درمیان اس پر بھی بات چیت ہوگی۔ماضی میں جب امریکی صدر نے دنیا کے مختلف ممالک پر تجارتی ٹیرف کے نفاذ کا اعلان کیا تھا، اس وقت امریکہ کی جانب سے پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں پاکستان پر عائد امریکی ٹیرف عارضی طور پر 90 دن کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ اگست 2025 میں بھی پاکستان کا ایک اعلیٰ سطح وفد امریکا گیا تھا جہاں مذاکرات کیے گئے تھے ۔ اس کے بعد امریکا کی جانب سے پاکستان پر 19 فیصد تجارتی ٹیرف نافذ کیا گیا جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم تھا۔