انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ :مریضوں کے داخلوں میں نمایاں کمی
گزشتہ 9سال کے دوران داخل مریض مسلسل کم ہوتے گئے ،متعدد وارڈز میں بیڈ خالی دو سال سے تعمیراتی کام جاری جس پر محدودمریض داخل کیے جا رہے :ایگزیکٹو ڈائریکٹر
لاہور(سجاد کاظمی سے )پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں مریضوں کے داخلوں میں تشویشناک حد تک کمی،ذہنی امراض اور منشیات کے عادی افراد کے علاج کیلئے مریضوں کے داخلوں میں چند برسوں کے دوران نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ۔ ادارے کے 2018 سے 2026 تک کے ریکارڈ کے مطابق او پی ڈی میں آنیوالے مریضوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی نہیں ہوئی تاہم داخل کیے جانیوالے مریض مسلسل کم ہوتے گئے ۔’’دنیا ‘‘کو حاصل ہونیوالی دستاویزات کے مطابق 1510 بستروں پر مشتمل اس ادارے میں 1400 بیڈز ذہنی امراض جبکہ 110 بیڈز منشیات کے عادی افراد کے علاج کیلئے مختص ہیں اسکے باوجود متعدد وارڈز میں بیڈ خالی پڑے ہیں۔’’دنیا ‘‘نے خالی وارڈز اور بیڈز کی فوٹیج بھی حاصل کر لی۔
دستاویزات کے مطابق 2018 میں او پی ڈی میں ایک لاکھ 71 ہزار 200 مریضوں کا معائنہ کیا گیا جبکہ ذہنی امراض کے 2561 اور منشیات کے عادی 810 مریض داخل کیے گئے ۔ 2019 میں او پی ڈی میں ایک لاکھ 92 ہزار 700 مریض آئے ، ذہنی امراض کے 2820 اور منشیات کے عادی 1280 مریض داخل ہوئے ۔ 2020 میں ایک لاکھ 76 ہزار مریضوں میں سے ذہنی امراض کے 1707 اور منشیات کے 1720 مریض داخل کیے گئے ۔ 2021 میں ایک لاکھ 74 ہزار 500 مریضوں کا معائنہ ہوا جبکہ ذہنی امراض کے 2300 اور منشیات کے 1310 مریض داخل ہوئے ۔ 2022 میں ایک لاکھ 47 ہزار 100 او پی ڈی مریضوں میں سے ذہنی امراض کے 3770 اور منشیات کے 2200 سے زائد مریض داخل کیے گئے۔
2023 میں ایک لاکھ 64 ہزار سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا گیا تاہم ذہنی امراض کے 3120 اور منشیات کے 1470 مریض داخل ہوئے ۔اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں او پی ڈی میں دو لاکھ سے زائد مریضوں کے معائنے کے باوجود ذہنی امراض کے صرف 1498 اور منشیات کے 543 مریض داخل کیے گئے ۔ 2025 میں ایک لاکھ 97 ہزار 700 مریضوں کے معائنے کے باوجود ذہنی امراض کے 1085 اور منشیات کے صرف 337 مریض داخل ہوئے جبکہ رواں سال 2026 میں مئی تک 87 ہزار سے زائد مریضوں کے معائنے کے باوجود ذہنی امراض کے 616 اور منشیات کے 205 مریضوں کو داخل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق نشے کے عادی افراد کو داخل کرنے کیلئے کسی قریبی عزیز کیساتھ داخل ہونے کی پالیسی لازمی قرار دی گئی ہے جس سے بے سہارا مریض علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض افراد علاج نہ ہونے پرسڑکوں اور فٹ پاتھوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔دستاویزات کے مطابق پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے بورڈ آف مینجمنٹ کے مستقل چیئرمین سے بھی محروم ہے ۔اس حوالے سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہسپتال میں دو سال سے ری ویمپنگ کا کام جاری ہے جسکے باعث مریضوں کے داخلے محدود کیے جا رہے ہیں۔ تعمیراتی اور انتظامی کام مکمل ہونے پرداخلوں کی استعداد بہتر ہو جائیگی۔ڈاکٹر عائشہ رشید نے کہا کہ منشیات کے عادی مریضوں کیساتھ لواحقین کو داخل کیا جاتا ہے تاہم اس حوالے سے غیر ضروری سختی نہیں کی جاتی۔ دیگر ہسپتالوں میں بھی ایسے مریضوں کیساتھ تیماردار موجود ہوتے ہیں اسلئے اس طریقہ کار کو غیر معمولی قرار دینا درست نہیں۔