سہیل سلطان اہلیت ،شخصی قانون سازی کی گئی،جسٹس حسن اظہر
قانون سازی سے لا افسروں کو صوبائی حکومت کی سروسز سے نکال دیا گیا :ریمارکس قانون سازی چیلنج نہیں:بیرسٹرگوہر،حکومتی جواب کے جائزہ کیلئے مہلت کی استدعامنظور
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدا لت میں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان کے اہلیت کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی، وفاقی حکومت نے اپنا جواب عدالت میں جمع کرا دیا۔ پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر نے استدعا کی کہ انہیں وفاقی حکومت کے جواب کا جائزہ لینے کے لیے وقت دیا جائے ، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ صوبائی حکومت نے ایک رہنما کی اہلیت سے متعلق قانون سازی کی۔ قانون سازی کے ذریعے لا افسروں کو صوبائی حکومت کی سروسز سے نکال دیا گیا جبکہ بظاہر ایک شخص کی اہلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے شخصی نوعیت (پرسن سپیسفک)کی قانون سازی کی گئی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا عدالت کے سامنے بنیادی معاملہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کا ہے ، صوبائی حکومت کی قانون سازی مقدمے میں چیلنج نہیں کی گئی۔ عدالت نے مزید سماعت ملتوی کر دی۔