HIV روک تھام، عوام میں آگاہی مہم تیز کی جائے :قائمہ کمیٹی صحت
فارمولہ دودھ کے اشتہارات پر تشویش، ماں کے دودھ کی اہمیت اجاگر کرنے کی ہدایت ملکی ترقی، صحت، تعلیم، روزگار، غذائی تحفظ کیلئے آبادی کا مؤثر انتظام ناگزیر، مصطفی کمال
اسلام آباد (نیوز رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت اور بعد ازاں قومی صحت و انسانی حقوق کی فنکشنل کمیٹی کے اجلا س میں ایچ آئی وی/ایڈز کی روک تھام، فارمولہ دودھ کے اشتہارات، ادویات کی قیمتوں، آبادی میں اضافے اور متعلقہ قانون سازی سمیت اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی نے ایچ آئی وی کے بڑھتے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سکریننگ کی سہولتوں میں توسیع، عوامی آگاہی مہم تیز کرنے ، احتیاطی اقدامات اور مؤثر ریگولیٹری نگرانی کی ہدایت کی۔
وزیر صحت نے تجویز دی کہ ایچ آئی وی/ایڈز کو قائمہ کمیٹی کے مستقل ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے ، جبکہ صوبائی اداروں کو روک تھام سے متعلق اپنی کارکردگی رپورٹس بھی پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔کمیٹی نے فارمولہ دودھ کے اشتہارات پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماں کے دودھ کی افادیت سے متعلق انتباہ نمایاں انداز میں نشر نہیں کیا جا رہا۔ پیمرا کو ہدایت کی گئی کہ آگاہی پیغام اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں واضح انداز میں نشر کرایا جائے اور ٹی وی کے لازمی عوامی آگاہی وقت کو ماں کے دودھ کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جائے ۔اجلاس میں ادویات کی قیمتوں اور دواساز شعبے سے متعلق جاری تحقیق جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ بلوچستان کے نرسنگ طلبہ کے تعلیمی معاملے کو ایک ہفتے میں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیشن (ترمیمی) بل 2026 اور اسلام آباد کنزیومرز پروٹیکشن (ترمیمی) بل 2026 مزید مشاورت کے لیے مؤخر کر دیے گئے ۔بعد ازاں قومی صحت اور انسانی حقوق کی فنکشنل کمیٹی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آبادی کا مؤثر انتظام ملکی ترقی، صحت، تعلیم، روزگار، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم آبادی سے منسلک ہونے کے باعث صوبوں کے لیے مؤثر آبادی پالیسیوں پر عملدرآمد مشکل بناتی ہے ، اس لیے آبادی کے نظم و نسق کے لیے جامع قانونی فریم ورک اور وفاقی و صوبائی سطح پر مربوط حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔