ٹیوشن سینٹر میں طالبہ کی ہلاکت، مالک کی 2 بیٹیاں بھی گرفتار
12 سالہ نعیمہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گلے پر پھندے کا نشان، تحقیقات جاری فرانزک شواہد اکٹھے ، خودکشی اور قتل سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ ،بچی سپردخاک
لاہور (کرائم رپورٹر) اچھرہ کے ایک ٹیوشن سینٹر میں 12 سالہ طالبہ نعیمہ کی پراسرار ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔ پولیس نے ٹیوشن سینٹر کے مالک کے علاوہ اس کی دو بیٹیوں کو بھی تحویل میں لے لیا ہے ، جس کے بعد زیرِ حراست افراد کی تعداد تین ہو گئی ہے ۔ پولیس کے مطابق تینوں سے مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے ۔پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد طالبہ کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق طالبہ کے گلے پر رسی کے پھندے کا واضح نشان موجود تھا اور موت گلے میں پھندا لگنے کے باعث واقع ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبہ کے جسم پر تشدد یا زبردستی کے کوئی واضح نشانات نہیں ملے ۔تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ٹیوشن سینٹر کے واش روم کا دروازہ لاک نہیں تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق متوفیہ کی چھوٹی بہن نے سب سے پہلے واش روم کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی، تاہم دروازہ نہ کھلنے پر بڑی بہن موقع پر پہنچی اور دروازہ کھولنے پر نعیمہ کی لاش دیکھی۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس، ڈی این اے اور دیگر اہم شواہد اکٹھے کرکے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیوشن سینٹر اور اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی تحویل میں لے کر ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ابتدائی تحقیقات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ متوفیہ ماضی میں ایک مرتبہ خودکشی کی کوشش کر چکی تھی، تاہم پولیس کے مطابق اس دعوے کی بھی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں خودکشی، قتل اور دیگر تمام ممکنہ پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ حکام کے مطابق حتمی رائے فرانزک، کیمیکل ایگزامینر، ڈی این اے اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی دی جائے گی۔نعیمہ کی نمازِ جنازہ مغرب کے بعد ادا کرنے کے بعد مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔