مقامی ہائبرڈ گاڑیوں کیلئے ٹیکس ریلیف ختم،قیمتوں میں اضافہ

مقامی ہائبرڈ گاڑیوں کیلئے ٹیکس ریلیف ختم،قیمتوں میں اضافہ

1800سی سی اورزائد گاڑیوں پر 18سے 25فیصد تک جی ایس ٹی کا امکان

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں اسمبل ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں کیلئے جنرل سیلز ٹیکس میں دی گئی رعایت 30 جون کو ختم ہو چکی ہے جس کے بعد آٹو کمپنیوں نے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ شروع کر دیا ،انڈس موٹر کمپنی نے کرولا کراس ہائبرڈ کی قیمت میں تقریباً  14 لاکھ روپے اضافہ کیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 85 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ روپے سے زائد ہو گئی، یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 2021 میں پاکستان میں تیار ہونے والی ہائبرڈ اور دیگر نیو انرجی گاڑیوں کے لیے ٹیکس ریلیف متعارف کرایا تھا،اس کے تحت 1800 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر 8.5 فیصد اور 1800 سے 2500 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد جی ایس ٹی لاگو تھا،حکومت نے تاحال اس حوالے سے کوئی نیا نوٹیفکیشن تو جاری نہیں کیا تاہم آٹو سیکٹر ماہرین کا کہنا ہے کہ 1800 سی سی تک گاڑیوں پر 18 فیصد اور 1800 سی سی سے زائد گاڑیوں پر 25 فیصد جی ایس ٹی بحال ہونے کا امکان ہے ۔آن لائن آٹو مارکیٹ پاک ویلز کے اندازے کے مطابق مقامی طور پر اسمبل ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں 10 سے 20 لاکھ روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے ۔آٹو سیکٹر کے ماہر محمد فیصل شاہ خٹک نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر صارفین اور مجموعی مارکیٹ پر پڑے گا ۔ آٹو انڈسٹری کے ماہر مشود خان کے مطابق حکومت جلد نئی آٹو پالیسی متعارف کرانے والی ہے ، نئی پالیسی میں آٹو پارٹس پر بھی 15 فیصد سیلز ٹیکس عائد کئے جانے کی اطلاعات ہیں ،اگر پارٹس پر سیلز ٹیکس نافذ کر دیا جاتا ہے تو مقامی اسمبلرز کے لیے گاڑیاں تیار کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں