جعلی ڈگری پر33سال سرکاری نوکری،FIAکوکارروائی کاحکم

جعلی ڈگری پر33سال سرکاری نوکری،FIAکوکارروائی کاحکم

وسیم افضل پہلے ایس ایم ای بینک ،پھروزارت محنت میں گریڈ 19میں بھرتی ہوا انٹراکورٹ اپیل خارج، وصول کردہتمام مراعات واپس لی جائیں،اسلام آبادہائیکورٹ

اسلام آباد(رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے جعلی ڈگری پر33 سال تک سرکاری نوکری کرنے والے گریڈ19 کے افسروسیم افضل وڑائچ کی دائر کردہ انٹرا کورٹ اپیل کو خارج کرتے ہوئے فراڈ اور جعلسازی کا مرتکب قراردے دیا۔جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل بینچ سے جاری فیصلہ میں عدالت نے کہا بی اے اور ایم بی اے کی اسناد دھوکہ دہی اور جعلسازی کر کے حاصل کی گئیں،عدالت نے نوکری کے دوران وصول کردہ تمام مراعات واپس کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وسیم افضل کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔اپیل کنندہ نے 1993 میں جعلی ڈگری کی بنیاد پر ایس ایم ای بینک میں نوکری حاصل کی اور 2009 میں گولڈن ہینڈ شیک سکیم کے تحت نوکری چھوڑی۔ 2011 میں جعلی اسناد پیش کر کے سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر وزارت محنت و افرادی قوت میں گریڈ 19 کی نوکری حاصل کی۔ نوکری کے دوران بھی وسیم افضل پر کرپشن اور بددیانتی کی وجہ سے محکمانہ انکوائریاں چلتی رہیں۔2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وسیم افضل کی ڈگریاں جعلی قرار دیں اور نوکری سے برخواستگی کی ہدایت کی، جس پر اس نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کی، جو خارج کر دی گئی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں