ترقیاتی بجٹ میں نتائج پر مبنی جوابدہی نظام ناگزیر، ماہرین

ترقیاتی بجٹ میں نتائج پر مبنی جوابدہی نظام ناگزیر، ماہرین

ترقیاتی حکمتِ عملی میں معاشی نمو پر مبنی نقطئہ نظر اپنانا ہوگا ، ڈاکٹر قیصر بنگالی و دیگر بند کمرہ مذاکرہ کے دوران تعلیم، صحت،آبادی ،معاشی نمو پر مبنی حکمت عملی پر زور

اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر)حکومت، ممتا ز معاشی تحقیقی اداروں، بین الاقوامی ترقیاتی تنظیموں اور پاکستان کی ترقیاتی برادری کے سینئر نمائندوں نے گزشتہ روز گلوب سائٹ کے زیر اہتمام منعقدہ بند کمرہ پالیسی مذاکرے \"مالی فیصلے ، انسانی اثرات، پاکستان کا ترقیاتی بجٹ زیرِ غور\" میں شرکت کی۔مذاکرے کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے ترقیاتی نظام کو نتائج پر مبنی جوابدہی کی جانب منتقل کرنے کی ضرورت ہے ۔ شرکاء نے مختلف شعبہ جاتی ترقیاتی پروگراموں کے رجحانات اور ان پر عمل درآمد کے چیلنجز کا جائزہ لیا جبکہ اس سوال پر بھی غور کیا کہ ملک کو درپیش مسلسل ترقیاتی خلا کی بنیادی وجوہات وسائل کی غیر مؤثر تقسیم، اخراجات میں کم کارکردگی یا ادارہ جاتی تقسیم ہیں۔اجلاس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ تعلیم، صحت اور آبادی کو ترقیاتی ترجیحات کے اہم شعبوں کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔ورلڈ بینک کے سینئر ماہرِ معاشیات جعفر عسکری نے کہا کہ قومی بجٹ پیش ہوتے ہی ہر شعبہ اپنی مختص رقم پر توجہ دیتا ہے جبکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ فنڈز کی تقسیم کے بجائے ترقیاتی نتائج کی بنیاد پر جوابدہی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے ۔معروف ماہرِ معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ پاکستان کو اپنی ترقیاتی حکمتِ عملی میں معاشی نمو پر مبنی نقطئہ نظر اپنانا ہوگا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں