اپوزیشن کی مجوزہ تحریک کو تاحال سازگار ماحول میسر نہیں

اپوزیشن کی مجوزہ تحریک کو تاحال سازگار ماحول میسر نہیں

پی ٹی آئی اور دیگراپوزیشن جماعتوں کی موثر تحریک کیلئے تیاری مکمل نہ جوش موجود

(تجزیہ: سلمان غنی)

بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کی تیسری سالگرہ کے موقع پر اپوزیشن نے ملک گیر حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ، اس تحریک کیلئے بلوچستان کی صورتحال، سیاسی کارکنوں کی رہائی، کشمیر کے حالات اور حکومت سے نجات جیسے نکات کو بنیاد بنایا جا رہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق عوامی رائے ہموار کرنے کیلئے احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا بھی منصوبہ زیر غور ہے تاہم یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ آیا اپوزیشن واقعی ایک مؤثر احتجاجی تحریک چلانے کی پوزیشن میں ہے ، ماضی کی تحریکیں کیوں کامیاب نہ ہو سکیں اور کیا پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتیں اس تحریک کا فعال حصہ بن پائیں گی۔ملکی سیاسی تاریخ میں احتجاجی تحریکیں عموماً مخصوص سیاسی حالات اور غیر معمولی ماحول کے نتیجے میں جنم لیتی رہی ہیں۔ ماضی میں بعض تحریکوں کی کامیابی کا انحصار غیر سیاسی قوتوں کے اشاروں پر بھی رہا، جس کے نتیجے میں حکومتیں دباؤ کا شکار ہوتی تھیں،موجودہ حالات میں اگرچہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے تاہم کسی بڑی احتجاجی تحریک کیلئے ماحول سازگار دکھائی نہیں دیتا۔اس کی ایک بڑی وجہ خود تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتوں کے اندر وہ جوش اور تنظیمی تیاری نہ ہونا ہے جو کسی مؤثر تحریک کیلئے ضروری سمجھی جاتی ہے۔

مزید برآں اپوزیشن کو کسی طاقتور پشت پناہی یا غیر معمولی سیاسی حمایت بھی حاصل نہیں دکھائی دیتی۔ پی ٹی آئی اسلام آباد دھرنے ، لانگ مارچ اور دیگر احتجاجی آپشنز پہلے ہی آزما چکی ہے لیکن کوئی تحریک فیصلہ کن ثابت نہیں ہو سکی۔نومئی کے واقعات کے بعد ریاست نے ریاست مخالف بیانیے اور فوجی تنصیبات پر حملوں کے معاملے میں سخت مؤقف اختیار کیا ہوا ہے اور اس حوالے سے کسی نرمی کے آثار نظر نہیں آتے ۔ اسی تناظر میں بانی پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی جانب سے مختلف سطحوں پر رابطوں کی خواہش کے باوجود کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں حکومت کی اصل قوت اس کی عوامی مقبولیت سے زیادہ ادارہ جاتی استحکام اور اپوزیشن کی کمزور سیاسی حکمت عملی ہے ۔ دوسری جانب پی ٹی آئی، جو ماضی میں احتجاجی سیاست اور عوامی متحرک کرنے کی صلاحیت کے باعث نمایاں تھی، آج دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے ۔ بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد پارٹی کی احتجاجی قوت بھی پہلے جیسی مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔اسی لیے فی الحال نہ کوئی بڑی احتجاجی تحریک بنتی دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی ایسی سیاسی پیش رفت کے آثار نظر آتے ہیں جو فوری طور پر موجودہ سیاسی توازن کو تبدیل کر سکے ۔ سیاسی حقائق یہی بتاتے ہیں کہ جب تک اہم فریقوں کے درمیان کسی سطح پر اعتماد اور مفاہمت کی راہ ہموار نہیں ہوتی، اپوزیشن کی مجوزہ تحریک کے کامیاب ہونے کے امکانات محدود رہیں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں