نصیر آباد :مالکان کا مبینہ تشدد ، 12 سالہ گھریلو ملازمہ جاں بحق

 نصیر آباد :مالکان کا مبینہ تشدد ، 12 سالہ گھریلو ملازمہ جاں بحق

جڑانوالہ کی رہائشی کنیز فاطمہ ایک ماہ سے صوفی اعجاز کے گھر کام کر رہی تھی موت بظاہر فوڈ پوائزنگ سے ہوئی، جسم پر تشدد کے نشانات نہیں :پولیس

لاہور،جڑانوالہ(کرائم رپورٹر،این این آئی، نمائندہ دنیا)لاہور کے علاقہ نصیر آباد میں مالکان کے مبینہ تشدد سے گھریلو ملازمہ 12 سالہ بچی جاں بحق ہو گئی،پولیس نے مالک مکان محمد اعجاز کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ۔پولیس کے مطابق جاں بحق 12 سالہ کنیز فاطمہ کا تعلق تحصیل جڑانوالہ کے علاقہ چکنمبر357گ ب نیلیانوالہ سے تھا ،گزشتہ ایک ماہ سے نصیر آباد کے رہائشی صوفی محمد اعجاز کے گھر ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی ، جسم پر کسی قسم کے تشدد یا زیادتی کے نشانات نہیں ملے ۔ ابتدائی طبی معائنے کے مطابق بچی کی موت بظاہر فوڈ پوائزنگ کے باعث ہوئی ۔دوسری طرف بچی کے والد جاوید نے ایف آئی آر میں 

 موقف اختیار کیا ہے کہ جمعہ کی شام تقریباً پانچ بجے انہیں گھر کے مالکان نے فوری لاہور پہنچنے کا کہا اور جب ہم لاہور پہنچے تو بتایا گیا کہ آپ کی بیٹی گلاب دیوی ہسپتال میں زیر علاج ہے ،ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے آگاہ کیا کہ کنیز فاطمہ کو مردہ حالت میں لایا گیا تھا۔ جاوید نے الزام عائد کیا کہ گھر کے مالکان نے میری بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا ،پولیس نے لاش قانونی کارروائی کیلئے مردہ خانے منتقل کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں