آبنائے ہرمز کی بندش اور کھلنے کے متضاد دعوے:امریکا اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے140ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا:سینٹ کام امریکی اڈوں پر میزائل داغے:پاسداران

آبنائے  ہرمز  کی  بندش  اور  کھلنے  کے  متضاد  دعوے:امریکا  اور  ایران  کے  ایک  دوسرے  پر  حملے140ایرانی  اہداف  کو  نشانہ  بنایا:سینٹ  کام  امریکی  اڈوں  پر میزائل داغے:پاسداران

امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کیلئے مکمل تیار:سینٹ کام ، ایک روز قبل معاہدہ طے پا گیا تھا ،ایران نے تمام مطالبات مانے پھر ایک گھنٹے بعدحملہ کردیا:ٹرمپ قطر ،کویت ،اردن اور بحرین میں امریکی اڈوں پرحملے کئے ، خطے میں امریکی مداخلت کے خاتمے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی :ایرانی دعویٰ ،یک طرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا:باقرقالیباف

تہران، واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی،دونوں کے ایک دوسرے پر حملے جاری ہیں ، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو اگلے حکم تک بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا جبکہ امریکا نے اس اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری رہے گی۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایک بحری جہاز کو مبینہ طور پر غیر منظور شدہ راستے سے گزرنے کی کوشش پر وارننگ شاٹ کے ذریعے روک دیا گیا جبکہ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے بندر عباس، سیرک، جاسک، چابہار، کنگان، بندر دیر اور عسلویہ سمیت مختلف علاقوں میں حملے کئے ہیں تاہم ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام)نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کا نیا اور تیسرا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے ۔ امریکی فوج کے مطابق لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جہازوں کے ذریعے تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ رواں ہفتے کے دوران 300 سے زائد اہداف پر حملے کئے جا چکے ہیں۔ ان میں ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتیں، گولہ بارود کے ذخائر، مواصلاتی نیٹ ورکس اور ساحلی نگرانی کے مراکز شامل ہیں۔ایران کا آبنائے ہرمز پر کوئی کنٹرول نہیں جبکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ قانونی طور پر تمام جہازوں کیلئے کھلی ہے اور جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے ۔سینٹ کام کا کہناتھاکہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے اور ایرانی جارحیت، ہراسانی، دھمکیوں اور خودساختہ اعلانات کے باوجود عالمی بحری راستے کو کھلا رکھا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے گزشتہ رات ایران پر بہت سخت حملے کئے ، آبنائے ہرمز کمرشل ٹریفک کیلئے کھلی ہوئی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ ایک روز قبل معاہدہ طے پا گیا تھا اور تہران تقریباً تمام مطالبات ماننے پر آمادہ تھا لیکن ایک گھنٹے بعد ہی ایران نے ڈرون حملے میں ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنا دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں، انہوں نے کل ایک معاہدے پر اتفاق کیا، جو ہمارے لئے ایک بہترین معاہدہ تھا۔ ایران نے معاہدے میں جوہری معاملے سمیت سب کچھ چھوڑ دیا تھا، اس کے بعد وہ کمرے سے باہر نکلے اور ایک گھنٹے کے اندر جہاز پر ڈرون حملہ کردیا ۔ادھر ایرا نی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو تا حکمِ ثانی مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ اقدام ایک بحری جہاز پر انتباہی فائرنگ کے بعد کیا گیا۔ایران کا دعویٰ ہے کہ جہاز غیر منظور شدہ اور غیر قانونی راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ آبنائے ہرمز خطے میں امریکی مداخلت کے خاتمے تک بند رہے گی۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ اگردشمن نے اس واقعے کو بہانا بنا کر کوئی غلط قدم اٹھایا تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران نے غلط فیصلے کئے ہیں اور اب اسے ان کی قیمت چکانا پڑے گی۔

ادھر ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں قطر کے العدید ایئر بیس، کویت میں امریکی فوجی تنصیبات اور اردن، بحرین اور دیگر مقامات پر امریکی مفادات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے ۔ ایران نے عمان کی بندرگاہ دُقم میں امریکی بحری بیڑوں کیلئے قائم لاجسٹک مراکز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔قطر نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملوں اور میزائلوں کے ملبے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے بھی کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بنایا جبکہ بحرین میں خطرے کے سائرن بجا دئیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔سعودی عرب، عمان اور کویت نے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔ ان ممالک نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کی سپلائی اور خطے کے امن و استحکام کیلئے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے ۔ادھر بھارت نے بھی عمان کے ساحل کے قریب تجارتی جہاز پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جہاز پر سوار 11 بھارتی شہریوں میں سے 10 کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے ، جبکہ ایک شہری تاحال لاپتا ہے ۔

برطانوی ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق حملے کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی تھی، تاہم مقامی حکام نے عملے کو بحفاظت نکال لیا۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور وہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی تیل کی سپلائی، بحری تجارت اور مشرق وسطیٰ کے امن کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دئیے ہیں۔ایران کے مرکزی مذاکرات کار اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پربیان میں کہاکہ یک طرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا، ہم نے آپ سے کہا تھا، یا اپنے وعدے پورے کریں یا وعدہ خلافی کی قیمت ادا کریں، حقیقت آپ کے سامنے ہے ۔اس پوسٹ کے ساتھ امریکااور ایران میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ کی ایک تصویر بھی شیئر کی گئی،جس میں لکھاہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران خلیج فارس سے بحیرہ عمان اور بحیرہ عمان سے خلیج فارس آنے جانے والے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کیلئے انتظامات کرے گا اور یہ سہولت صرف 60 دن تک بغیر کسی فیس کے فراہم کی جائے گی۔اس شق کی جو تصویر باقر قالیباف نے شیئر کی، اس میں ’’ایران انتظامات کرے گا‘‘کے الفاظ کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مسقط میں عباس عراقچی اور عمانی حکام کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی بات چیت کے بارے میں کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز میں آمدورفت اور جہاز رانی کے طریقہ کار کے حوالے سے باہمی ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں