امتِ کے مشترکہ مسائل کا حل اتحاد ،باہمی تعاون میں ہے ،فضل الرحمن

امتِ کے مشترکہ مسائل کا حل اتحاد ،باہمی تعاون میں ہے ،فضل الرحمن

پاکستان،سعودی عرب کے تعلقات ایمان، اخوت اور مشترکہ اسلامی مفادات پر قائم پنجاب کے چودھریوں اور نوابوں کو ہم ہی زمین بوس کر سکتے ہیں:تقریبات سے خطاب

اسلام آباد،لاہور (دنیا نیوز،سٹاف رپورٹر)جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے رابطہ عالمِ اسلامی کے زیر اہتمام پاکستانی علما کرام کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایمان، اخوت اور مشترکہ اسلامی مفادات پر قائم ہیں۔ رابطہ عالمِ اسلامی امتِ مسلمہ کے اتحاد، اعتدال اور رواداری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ امتِ مسلمہ کی وحدت اور استحکام کی ضمانت علماء کے اتحاد میں ہے جبکہ امت کے مشترکہ مسائل کا حل اتحاد، اعتدال اور باہمی تعاون میں مضمر ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ علماء امت کا یہ اجتماع خیر، برکت اور وحدتِ امت کا پیغام ہے ۔تقریب میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی، رابطہ عالمِ اسلامی کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ، مفتی تقی عثمانی، مولانا حنیف جالندھری اور دیگر جید علماء کرام نے شرکت کی۔مولانا فضل الرحمن نے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت، سلامتی اور درازی عمر کے لیے بھی دعا کی۔سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمٰن نے قصور میں تحفظِ مدارسِ و عوامی حقوق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام کی سوچ میں تبدیلی کی نوید سنائی دے رہی ہے ، لگتا ہے اب عوام کے تیور بدل چکے ہیں۔اس وطن عزیز کی آزادی کے لیے آپ کی پشت پر دو سو سالہ تاریخ ہے ۔ جب ہندوستان کو انگریز حکومت سے آزادی دلانے کے لیے ہمارے اکابرین نے اسے دارالحرب قرار دیکر جہاد کا آغاز کیا تھا۔

ایک صدی تک برصغیر میں علماء لڑتے رہے ، بے سر و سامانی کے عالم میں لڑتے رہے ، عالمی قوت کے خلاف لڑتے رہے ، اپنی جدوجہد میں انہوں نے کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ آنے والی نسلوں کو ایک پیغام دیا کہ آزادی کے لیے اپنے سر کٹوائے جا سکتے ہیں، آزادی کے لیے سولی قبول ہو سکتی ہے ، لیکن فرنگی کی غلامی کسی قیمت پر ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے ۔ میں پنجاب کے کسان کو پیغام دینا چاہتا ہوں، میں پنجاب کے مزدور کو پیغام دینا چاہتا ہوں، آپ بے فکر ہو جائیے ، وڈیروں کا، چودھریوں کا، سرداروں کا بھوت اپنے سروں سے اتار لیجیے ۔ یہ جنگ جمعیت علماء اسلام لڑے گی۔ اگر تیرے گریبان میں کسی طاقتور کا ہاتھ پڑا، ہم اس ہاتھ کو توڑ کر رکھ دینگے ۔ اور ہم نے پاکستان میں، ہم نے خیبر پختونخوا میں، ہم نے بلوچستان میں بڑے بڑے خوانین، بڑے بڑے نواب، جو خدائی دعوے کرتے تھے ، ان کے دعوؤں کو اگر زمین بوس کیا ہے تو پنجاب کے چودھری اور نوابوں کو بھی ہم ہی زمین بوس کر سکتے ہیں۔پاکستان کے عوام ووٹ ڈالتے ہیں، لیکن عوام کا ووٹ منظر عام پر نہیں آتا، پتہ نہیں کہاں غائب ہو جاتا ہے ۔گلگت میں الیکشن ہوا، اور ایک پولنگ اسٹیشن پر، جہاں جمعیت علماء کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جیت رہی تھی، اس کے بکسے دریا میں ڈال دئیے گئے ۔ اب بتاؤ، دریا میں بکسے کہاں ڈھونڈو گے ؟ ووٹ کہاں سے گنو گے ؟اب اس قسم کے عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکا ڈالا جائے گا، اور پارلیمنٹ عوام کے حق کی جنگ نہیں لڑے گی، بلکہ مقتدرہ کو طاقتور بنانے کی جنگ لڑے گی، جو دھاندلی کراتی ہے ۔کانفرنس سے جے یو آئی کے مرکزی ڈپٹی جنر ل سیکرٹری مولانا محمد امجد خان،مرکزی ترجمان محمد اسلم غوری ،مرکزی ناظم مالیات مولانا صلاح الدین ایوبی،سابق وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود ،سینیٹر مولانا عطاء الرحمن ،سینیٹر مولانا عبدالواسع، مولانا راشد خالد محمود سومرو اور دیگرعہدے داران نے بھی خطاب کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں