آزاد کشمیر، بلوچستان میں صورتحال تشویشناک، حکومت فوری ادراک کرے : حافظ نعیم
مسائل کے حل کیلئے بھرپور اور مثبت کردار ادا کرر ہے ، نظام کی تبدیلی اور طاغوت کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی تعلیم اور صحت تجارت نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ،سکول اور بنیادی مراکز صحت فروخت انتہائی نامناسب اقدام:خطاب
لاہور(سٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ، مہنگی بجلی عوام کے لیے مستقل عذاب بن گئے ۔ آزاد کشمیر ، بلوچستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ،حکومت حالات کا فوری ادراک کرے ، جماعت اسلامی مسائل کے حل کے لیے بھرپور اور مثبت کردار ادا کررہی ہے۔ نظام کی تبدیلی اور طاغوت کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔ منصورہ میں مرکزی مجلس شوریٰ کے دو روزہ اجلاس سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے فلسطین کے مسئلے پر جماعت اسلامی کی مسلسل اور بھرپور مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کی حمایت جماعت اسلامی کی اصولی پالیسی ہے اور یہ حمایت ہر سطح پر جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے دوران بھی جماعت اسلامی نے اصولی موقف اختیار کیا اور مظلوم کی حمایت کی۔ امت اور پوری دنیا میں مظلوم انسانوں کے حق میں اور ملک کے اندر مثبت اور تعمیری تبدیلی کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے ۔امیر جماعت اسلامی نے کہا حکومت نے پٹرولیم لیوی، مہنگائی اور بجلی کے شعبے میں آئی پی پیز کے مہنگے ظالمانہ معاہدوں کے ذریعے عوام پر ناقابل برداشت بوجھ ڈالا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی اجیرن بن گئی۔ عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جماعت اسلامی کی اولین ترجیحات میں شامل ، احتجاجی تحریک کو مزید منظم کریں گے ۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ کرنا انتہائی نامناسب اقدام ہے ،تعلیم اور صحت کوئی تجارت نہیں بلکہ یہ قومی ذمہ داری ہے۔ پنجاب میں ایک کروڑ بچے سکول نہیں جاتے ، صوبہ کا کسان پریشان ہے ، بنیادی مراکز صحت کو فروخت کیا جارہا ہے ، عوام بنیادی سہولیات سے محروم ، صوبہ میں غریت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ، اس صورتحال اور مسائل کے ہوتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اپنے لیے گیارہ ارب کا جہاز خرید لیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گیارہ ارب روپے کے جہاز سے عوام کو کیا فائدہ پہنچے گا ؟ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور پنجاب سمیت پورا ملک بدانتظامی اور ناقص حکمرانی کا شکار ہے ۔دو روزہ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ملک بھر سے مرد و خواتین ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملکی و بین الاقوامی صورتحال، تنظیمی امور اور آئندہ کی سیاسی و عوامی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مختلف اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments