شعبہ توانائی میں خود کفالت کیلئے اصلاحات کی ضرورت :جماعت اسلامی

شعبہ توانائی میں خود کفالت کیلئے اصلاحات کی ضرورت :جماعت اسلامی

آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی، ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پر دوبارہ مذاکرات کی سفارش تعلیمی بجٹ بڑھایا، یکساں نظام تعلیم متعارف کرایا جائے :مرکزی مجلس شوریٰ کی قرارداد یں

لاہور (سیاسی نمائندہ )جماعت اسلامی پاکستان کی مجلس شوریٰ نے ملک کو درپیش توانائی اور تعلیمی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جامع قراردادیں منظور کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں خودکفالت، سستی بجلی اور شفاف اصلاحات جبکہ تعلیم کے میدان میں آئین کے آرٹیکل 25-اے پر مکمل عملدرآمد، تعلیمی بجٹ میں اضافہ اور یکساں و معیاری نظام تعلیم کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کئے جائیں،حکومتی پالیسیوں، کمزور طرز حکمرانی اور وسائل کے غیر مؤثر استعمال کے باعث دونوں شعبے شدید بحران سے دوچار ہیں۔توانائی سے متعلق قرارداد میں حکومت پر زور دیا گیا کہ 2035 تک ملک کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا 65 فیصد مقامی ذرائع (پن بجلی، جوہری توانائی، قابل تجدید ذرائع اور تھر کول )سے حاصل کیا جائے اور آئندہ دس برسوں میں درآمدی ایندھن پر انحصار 30 فیصد تک محدود کیا جائے ،گھریلو اور چھوٹے کاروباروں کیلئے بجلی کے نرخ عوام کی استطاعت کے مطابق رکھے اور پٹرولیم لیوی ختم کی جائے ۔ لائف لائن صارفین کو سستی بجلی فراہم کی جائے ، 2040 تک بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 40 فیصد تک بڑھایا جائے ، گردشی قرضے میں پانچ سال کے اندر 50 فیصد کمی لائی جائے اور ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات کو 2030 تک 10 فیصد سے کم کیا جائے۔

شوریٰ نے آئی پی پیز کے "ٹیک یا پے "معاہدوں پر نظرثانی، ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر دوبارہ مذاکرات ، دیہی علاقوں تک بجلی اور گیس کی فراہمی اور توانائی کے شعبے میں شفافیت بڑھانے کی بھی سفارش کی۔تعلیم سے متعلق قرارداد میں کہا گیا کہ ملک میں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، تعلیم پر مجموعی قومی پیداوار کا محض 1.7 سے 2 فیصد خرچ کیا جا رہا ہے ، جو بہت کم ہے ، تعلیم کا بجٹ مرحلہ وار بڑھا کر جی ڈی پی کے 4 سے 6 فیصد تک لایا جائے ، اردو کو مرحلہ وار ذریعہ تعلیم بنانے ، سی ایس ایس اور دیگر مقابلے کے امتحانات اردو میں دینے کا مساوی حق فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔مجلس شوریٰ نے کہا کہ نصاب، امتحانی نظام اور تدریسی طریقہ کار میں ایسی اصلاحات کی جائیں جو صلاحیتوں کو فروغ دیں ، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے درمیان معیار کے فرق کو کم کرنے کیلئے یکساں قومی تعلیمی معیارات نافذ کیے جائیں، جماعت اسلامی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...