پروکیورمنٹ رولز کے تحت قائم فورمز مکمل بااختیار:لاہور ہائیکورٹ
قانونی فورمز ٹیکنیکل ایویلیوایشن کمیٹی کے فیصلے برقرار ، تبدیل اورکالعدم کرسکتے منیجنگ ڈائریکٹر پی پی آر اے کا فیصلہ نظر ثانی عمل کا حصہ،انٹرا کورٹ اپیل خارج
لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت سرکاری خریداری سے متعلق مقدمے میں اہم قانونی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پروکیورمنٹ قوانین کے تحت مکمل قانونی فورم موجود ہو تو انٹرا کورٹ اپیل دائر نہیں کی جا سکتی، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری سلطان محمود اور جسٹس ملک محمد اویس خالد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نجی کمپنی کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلہ سنایا ،عدالت کے روبرو بتایا گیا کہ محکمہ صحت پنجاب نے مالی سال 2025-26 کے لیے طبی آلات، سرجیکل ڈسپوزایبل اشیاء، امپلانٹس اور سیوچرز کی خریداری کے لیے ای ٹینڈر جاری کیا تھا۔ ٹیکنیکل ایویلیوایشن کمیٹی نے جانچ پڑتال کے بعد بعض کمپنیوں کی بولیوں کو تکنیکی طور پر غیر موزوں قرار دیا،متعلقہ کمپنیوں نے منیجنگ ڈائریکٹر پنجاب پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی سے رجوع کیا۔
جنہوں نے دونوں فورمز کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں تکنیکی طور پر اہل قرار دیا اور خریداری کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھانے کی ہدایت کی، اس فیصلے کے خلاف دائر آئینی درخواست سنگل بینچ نے مسترد کر دی تھی، جس کے بعد درخواست گزار نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کی۔دو رکنی بینچ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ پنجاب پروکیورمنٹ رولز 2014 کے رول 67 اور رول 67-A کے تحت فراہم کردہ قانونی فورمز محض رسمی نہیں بلکہ مکمل قانونی اختیار رکھتے ہیں، یہ فورمز ٹیکنیکل ایویلیوایشن کمیٹی کے فیصلے کا ازسرنو جائزہ لے سکتے ہیں، اسے برقرار رکھ سکتے ہیں، تبدیل کر سکتے ہیں یا کالعدم قرار دے سکتے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ منیجنگ ڈائریکٹر پی پی آر اے کا فیصلہ اصل حکم نہیں بلکہ قانونی نظرثانی کے عمل کا حصہ ہے ، عدالت نے انٹرا کورٹ اپیل خارج کر دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments