نیب مقدمات میں دائرہ اختیار پہلی قانونی رکاوٹ، اعتراض نہ اٹھانا نااہلی : جسٹس شاہد بلال حسن

 نیب مقدمات میں دائرہ اختیار پہلی قانونی رکاوٹ، اعتراض نہ اٹھانا نااہلی : جسٹس شاہد بلال حسن

کیا پہلے دائرہ اختیار پر اعتراض کیا گیا تھا؟ عدالت عظمیٰ، نیب کے مؤقف میں اچانک تبدیلی کیوں آ گئی؟جسٹس مسرت ہلالی نیب قانون میں ترامیم، سپریم کورٹ کا ایسے مقدمات سننے کا دائرہ اختیار نہیں:اے جی، وکیل کو جواب الجواب کی تیاری کا حکم

اسلام آباد (حسیب ریاض ملک) سپریم کورٹ نے نیب قوانین میں ترامیم کے بعد نیب مقدمات میں دائرہ اختیار سے متعلق اہم قانونی سوال پر درخواست گزار کے وکیل کو وفاقی حکومت اور نیب کے دلائل پر جواب الجواب کی تیاری کی ہدایت کر دی۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو ایسے مقدمات سننے کا دائرہ اختیار حاصل نہیں رہا۔ نیب مقدمات میں ضمانت اور سزا کے خلاف اپیلیں وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائیں گی۔ یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی مقدمے کا ایک حصہ سپریم کورٹ اور دوسرا وفاقی آئینی عدالت سنے ۔ نیب پراسیکیوشن نے بھی وفاقی حکومت کے مؤقف کی حمایت کی۔ درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے کہا کہ نیب ترامیم میں یہ کہیں نہیں لکھا گیا کہ ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

قانون کے مطابق صرف سزا کے خلاف اپیلیں وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں، ضمانت کے مقدمات بدستور سپریم کورٹ سن سکتی ہے ۔ نیب ترامیم کے بعد سپریم کورٹ ایک مقدمے میں ضمانت منظور کر چکی اور اس وقت نیب نے عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں اٹھایا۔ عدالت کے استفسار پر نیب کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 18 مارچ کو سماعت کے دوران ایسا اعتراض نہیں کیا گیا۔ جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیئے کہ دائرہ اختیار سب سے پہلی قانونی رکاوٹ ہوتی ہے جسے نیب نے نظرانداز کیا، دائرہ اختیار پر اعتراض نہ اٹھانا نیب کی نااہلی ہے ۔ جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ نیب کے مؤقف میں اچانک تبدیلی کیوں آ گئی۔ عدالت نے مزید سماعت 16 جولائی تک ملتوی کر دی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...