ایران امریکا مذاکرات پرراضی،بمباری دباؤ کا حربہ
ثالثی کوششیں نتیجہ خیز نہ ہونے کی وجہ فریقین میں بداعتمادی کی تاریخ
(تجزیہ:سلمان غنی)
وائٹ ہاؤس ترجمان کی جانب سے آنے والا یہ بیان کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتکاری کے دروازے بند نہیں کئے اور یہ کہ کشیدگی کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان روابط جاری ہیں کو موجودہ صورتحال میں امن کے حوالے سے امید کی کرن قرر دیا جا سکتا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکا مکمل محاذ آرائی کی بجائے مذاکرات کا آپشن کھلا رکھنا چاہتا ہے اور کسی غیر ضروری تصادم سے پرہیز برتنا چاہتا ہے ، یعنی امریکا دباؤ اور سفارتکاری کو ایک ساتھ لیکر چل رہا ہے تاکہ اپنے مفادات کے تابع مذاکرات کی گنجائش باقی رہے ۔ دوسری جانب ایرانی لیڈر شپ بھی امریکی حملوں کے جواب میں پر عزم اور ثابت قدم ہونے کے باوجود سفارتی حل کو مسترد نہیں کر رہی خصوصاً ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے ایسے سگنل آ رہے ہیں کہ سفارتی حل کارگر ہو سکتا ہے ، مگر اس کے لئے امریکی لیڈر شپ کو اپنا طرز عمل بدلنا ہوگا ۔لیکن ایرانی پاسداران انقلاب امریکی حملوں کے جواب میں امریکی مغربی طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے دعوے کرتے اور موثر ردعمل پر کاربند نظر آ رہے ہیں۔ جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ دنوں میں امریکا و ایران کی جانب سے مصالحتی سگنلز آتے ہیں یا ثالثی ممالک کا فریقین پر دباؤ بڑھتا ہے تو مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔
جبکہ بین الاقوامی مبصرین بھی اسے دروازہ کھلا رکھنے کی سفارتی حکمت عملی قرار دیتے ہیں تاکہ حالات بہتر ہونے پر کسی معاہدہ یا کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہو سکے ۔ادھر پاکستان بھی پس پردہ رابطوں میں مصروف ہے ، اس ضمن میں پاکستان کے قطر، عمان، سعودی عرب ،چین سے رابطے ہوئے ہیں،تاہم ثالثی کی کوششیں نتیجہ خیز کیوں نہیں ہو پائیں اس کی بڑی وجہ فریقین کے درمیان بداعتمادی کی تاریخ ہے ،جس کی وجہ سے ہر فریق دوسرے پر شک کرتا ہے اور بنیادی اختلافات خصوصاً جوہری پروگرام علاقائی سلامتی پابندیاں اور مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ سے مسائل پر اختلافات برقرار ہیں ۔امریکا اور ایران دونوں میں داخلی سیاسی دباؤ حکومتوں کی لچک کو محدود کر دیتا ہے ،امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ سے جنگی ماحول کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا ایشو ہے اور فریقین اس پر ایک دوسرے کا تسلط قبول کرنے کو تیار نہیں ۔امریکا ایران اور خلیجی ممالک اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ہرمز میں استحکام سب کے مفاد میں ہے ، اس لئے کشیدگی کے باوجود سفارتی راستہ کھلا رکھنے کی کوشش جاری رہتی ہیں، اس لئے زیادہ امکان یہی ہے کہ مستقبل میں ہرمز کا معاملہ سفارتکاری، اعتماد سازی اور علاقائی مفاہمت کے ذریعے ہی آگے بڑھے گا۔ جہاں تک بمباری کے ساتھ سفارت کاری کا سوال ہے تو بعض اوقات بمباری مذاکرات پر آمادگی کبلئے ہوتی ہے کہ مخالف فریق دباؤ میں آئے ،مگر آخر کار حل صرف سیاسی اور سفارتی مذاکرات سے ہی نکلتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments