سابق وزیراعظم تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ، گارڈ جاں بحق
ٹائیں ڈھلکوٹ میں گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ،محمد آصف موقع پر زندگی کی بازی ہار گیا دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہو چکا ،صدر آئی پی پی ، ویڈیو پیغام
مظفرآباد ، اسلام آباد (بیورو رپورٹ، مانیٹرنگ ڈیسک )سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ سے ان کا ذاتی محافظ جاں بحق ہو گیا ، ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم اور استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر سردار تنویر الیاس کے قافلے پر ٹائیں ڈھلکوٹ کے مقام پر نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر فائرنگ کی۔اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے سابق وزیراعظم کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ان کے ذاتی محافظ محمد آصف موقع پر جان کی بازی ہار گیا ۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ تنویر الیاس خان پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے ہمراہ دو روزہ دورے پر راولاکوٹ جا رہے تھے ، وا قعہ کے بعد وہ دورہ منسوخ کر کے واپس راولپنڈی پہنچ گئے ، ڈی آئی جی آزاد کشمیر راجہ اکمل نے تنویرالیاس کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ ان کا ایک گارڈ جاں بحق اوردیگر زخمی ہوئے ۔
ڈی آئی جی کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات کی جارہی ہیں، قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی ، دریں اثنا صدر سردار تنویر الیاس نے ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کی جانب سے حملے کے بعدویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم حلقہ ایل اے 22 پونچھ 5 میں آبائی گھر جا رہے تھے جب ہمارا قافلہ آزاد کشمیر کی حدود میں داخل ہوا تو تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد یونین کونسل ٹائیں ڈھلکوٹ کے مقام پر مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ حملے میں میرا ساتھی سردار محمد آصف مجھے بچاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا، قافلے میں شامل دیگر ساتھی زخمی ہوئے ،جو عناصر ریاست میں آٹے اور اشیائے خوردونوش کی قلت کا شور مچاتے ہیں وہی خود راستے بند کر کے ریاستی نظام اور عام آدمی کی زندگی کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں ، ہم نے معاملات کو افہام و تفہیم اور ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر یہ دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں ،ان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے ،ضرورت پڑنے پر فوج کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایسے عناصر کو پونچھ سمیت ریاست کے کسی بھی حصے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments