جنگ میں تیزی ، ابھی رکنے والے نہیں: ٹرمپ ، ایرانی وزیر داخلہ کی فیلڈمارشل ،وزیراعظم سے ملاقاتیں ، مخلص ثالث کا کردار جاری رکھیں گے: شہباز شریف
اب تک 17 امریکی فوجی ہلاک ،2ہفتوں میں100 زخمی : پینٹاگون ،حوثیوں کی دھمکی کے بعد سعودی ینبع بندرگاہ سے خام تیل لوڈ کرنیوالے دو غیر ملکی ٹینکروں نے راستے تبدیل کر لیے کئی ایرانی شہروں میں دھماکے ، امریکی میزائل ناکارہ بنا دیا،بحرین،کویت،اردن پر جوابی حملے ،امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ،بنیادی ڈھانچے ، فوجی اہداف ،آئل ٹینکر نشانہ،امریکیوں کیلئے نیا سفری انتباہ
تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان جنگ میں تیزی آگئی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ابھی ہم رکنے والے نہیں ، امریکا بہت جلد ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین کے علاقے کو نشانہ بنائے گا، جو ایران کی شدید متاثرہ نطنز یورینیم افزودگی تنصیب کے قریب واقع ایک انتہائی محفوظ اور زیرِ زمین جوہری مقام سمجھا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے ابھی کچھ دیکھا ہی نہیں،ہم اب تک نرم رویہ اختیار کیے ہوئے تھے ۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران مذاکرات کیلئے بے تاب ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ جب تک وہ بامعنی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتے ، ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔ ٹرمپ نے ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا سعودی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی تو بندوبست کرنا جانتے ہیں۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا انھوں نے برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی سمیت دیگر کئی موضوعات پر گفتگو کی ہے۔ادھر امریکی افواج کی مسلسل دسویں رات ایران کے جنوبی اور مغربی علاقوں پر بمباری کے جواب میں ایران نے منگل کے روز بحرین، کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر بھی حملے کی زد میں آ گیا۔
لڑائی کا حالیہ مرحلہ امریکی افواج کیلئے جنگ کا سب سے خونریز مرحلہ ثابت ہوا ہے ۔ ہفتے کے اختتام تک امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی۔پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ 7 جولائی 2026 سے اب تک تقریباً 100 اہلکار مختلف نوعیت کے زخموں کا شکار ہوئے ، تاہم ان میں سے 96 فیصد دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔فوج کے ہلاک اور زخمی اہلکاروں کا ریکارڈ رکھنے والے ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم (ڈی سی اے ایس) کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے آغاز سے اب تک 413 امریکی فوجی اہلکار کارروائی کے دوران زخمی ہوئے ہیں، تاہم اس تعداد میں اس ماہ کے زخمی شامل نہیں ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ اس نے اپنی تازہ کارروائیوں میں ایران کے فوجی کمانڈ مراکز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کے شہر شیراز کے اطراف دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ جنوبی ساحلی شہروں کنارک اور چاہ بہار، مغربی شہر خرم آباد اور عبدانان کے باہر ایک شہری مقام پر بھی حملے کیے گئے ۔ تاہم بعد ازاں ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے خرم آباد کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ وہاں دشمن کا کوئی حملہ نہیں ہوا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق کرمان کے علاقے رودبارِ جنوبی کی فضاؤں میں امریکی فوج کی جانب سے داغے گئے کروز میزائل کو ناکارہ بنا دیا گیا۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ انہوں نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی ایران کے مجوزہ دارخوین جوہری بجلی گھر کے تعمیراتی مقام پر امریکی حملے کے جواب میں کی گئی۔ایرانی سرکاری میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایرانی افواج نے بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود امریکی فوجیوں کی رہائشی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج نے کہا کہ اس نے منگل کو کویت میں واقع تین امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملے کیے جبکہ کویت کا کہنا ہے کہ ایران کی مسلسل جارحیت کے نتیجے میں مسلسل چوتھے روز متعدد بجلی گھروں اور پانی کے (ڈی سیلینیشن)پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا، جس سے کئی اہم تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں بھی ایک امریکی فوجی مقام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اردن کے علاقے رکبان میں اس کے حملوں کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب اردن نے کہا کہ اس کی فضائیہ نے ایران کے پانچ ڈرون مار گرائے ۔برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے بتایا کہ منگل کے روز آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر ایک گولہ آ کر لگا، جس کے بعد عملے کو جہاز چھوڑ کر لائف بوٹ میں منتقل ہونا پڑا۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران دو آئل ٹینکر دھماکوں کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔
جہاز رانی سے متعلق ادارے کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کے روز صرف چار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ، جن میں سے زیادہ تر نے ایران کے ساحل کے قریب شمالی بحری راستہ اختیار کیا، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد سات تھی۔اسرائیل نے ایران پر تازہ امریکی حملوں میں حصہ نہیں لیا۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے منگل کو کہا، \"ہم اس تنازع میں شامل ہونا نہیں چاہتے ، لیکن ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہیں۔خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث امریکی محکمہ خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں کیلئے نیا عالمی سفری انتباہ جاری کر دیا۔ادھر حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان پر بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں کا رخ موڑ دیا گیا،شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ایل ایس ای جی کے اعدادوشمار کے مطابق بحیرۂ احمر میں سکیورٹی خدشات بڑھنے کے بعد چین اور بھارت کیلئے سعودی خام تیل لے جانے والے دو آئل ٹینکروں نے اپنا سفر تبدیل کرتے ہوئے یوٹرن لے لیا اور اب نہرِ سویز کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔شپنگ ڈیٹا کے مطابق ویری لارج کروڈ کیریئر شِن لانگ یانگ نے چین کیلئے پیر کو سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ سے 20 لاکھ بیرل اور افرامیکس ٹینکر روڈوس نے بھارت کیلئے تقریباً 7 لاکھ بیرل سعودی خام تیل لادا تھا۔
سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ بحری ناکہ بندی کی دھمکیوں کا طاقت سے جواب دیا جائے گا، باب المندب میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کی جائے گی۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے ایرانی خام تیل کی خریداری میں نمایاں کمی آنے سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ایک انٹرویو میں بیسنٹ نے کہا کہ امریکا نے چین کی نجی آئل ریفائنریوں، جنہیں \"ٹی پاٹ ریفائنریز\" کہا جاتا ہے ، پر پابندیاں عائد کی ہیں، جس کے بعد ان کی جانب سے ایرانی تیل کی خریداری میں واضح کمی دیکھی گئی ہے ۔انہوں نے کہاچین نے مجموعی طور پر گزشتہ چند ماہ کے دوران خام تیل کی درآمدات میں تقریباً 40 فیصد کمی کی ہے ۔ اس کی ایک وجہ قیمتیں ہیں اور دوسری یہ کہ چین کے پاس سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کی بڑی مقدار موجود ہے ۔ اس صورتحال سے ایرانی حکومت پر براہِ راست دباؤ پڑ رہا ہے ۔ تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں کہا ہے کہ ان کے ساتھ رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ روز بروز مضبوط ہو رہا ہے ۔ویڈیو بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ ان رابطوں کو مزید بڑھنا چاہیے تاکہ ہم ان کی رہنمائی میں اپنے مسائل حل کر سکیں۔انہوں نے کہا ایک اجلاس میں انہوں نے اسلامی جمہوریہ کے رہنما کے ساتھ قریب ڈھائی گھنٹے گفتگو کی تھی۔انہوں نے کہا مذاکرات میں ایران کو توقعات سے بڑھ کر کامیابیا ں ملیں، امریکا نے جب یہ دیکھا تو سمجھوتا توڑ دیا ، ایران کا بنیادی نکتہ آبنائے ہر مز کھولنا تھا، ایران نے مختصر مدت میں معاملات کو سنبھال لیا ، یہ دیکھ کر امریکا نے دوبارہ جنگ شروع کر دی۔
اسلام آباد(خصوصی رپورٹر،نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں کیں،جن میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، خطے کی حالیہ صورتحال اور امن کیلئے سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔رہنماؤں نے علاقائی سلامتی کیلئے قریبی رابطے اور باہمی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے ۔شہبازشریف نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو،انہوں نے کہا پاکستان ایک دیانتدار اور مخلص ثالث اور سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے ۔ وزیراعظم نے اس ماہ کے آغاز میں تہران کے اپنے دورے کا ذکر کرتے ہوئے ایران کی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے پاکستانی قیادت کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور ایران کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے ۔سکندر مومنی نے شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ان سفارتی کوششوں کو بھی سراہا جن کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی۔وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، اقتصادی روابط اور علاقائی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی جہت دینا چاہتا ہے ۔ ملاقات میں سرحدی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی، غیر قانونی سمگلنگ کی روک تھام اور دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کو مزید موثر بنانے پر بھی مشاورت کی گئی۔دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ، اعلیٰ سطح روابط کے تسلسل اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔دریں اثنا ایرانی وزیر داخلہ نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر )کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور دوطرفہ سکیورٹی، اور سرحدی انتظام کو مؤثر بنانے سے متعلق معاملات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیرِ داخلہ نے پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کے قیام کے لیے ادا کیے جانے والے مستقل اور اہم سفارتی کردار کو سراہا۔ ملاقات کے اختتام پر علاقائی سکیورٹی اور باہمی خوشحالی کے فروغ کیلئے قریبی رابطوں اور باہمی تعاون کے موجودہ طریقۂ کار کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری کے ہمراہ پولیس لائنز بھی گئے ،پریڈ گراؤنڈ آمد پر ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کا پرتپاک استقبال کیا گیا، اسلام آباد پولیس کے خصوصی دستے نے سلامی پیش کی اور شاندار پریڈ کا مظاہرہ کیا۔قبل ازیں سکندر مومنی نے اپنے دور پاکستان کے دوران پاکستان مونومنٹ کا دورہ کیا، جہاں طلال چودھری نے ان کا استقبال کیا،اس موقع پر فیڈرل کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے ایرانی وزیر داخلہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔سکندر مومنی نے یادگارِ شہدا پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔
انہوں نے یادگارِ شہدا اور پاکستان مونومنٹ کی تاریخی و قومی اہمیت کو سراہا، جبکہ شکر پڑیاں سے اسلام آباد شہر اور مارگلہ کے پہاڑی سلسلے کا بھی مشاہدہ کیا۔اسلام آباد پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اس وقت تقریباً تین ارب ڈالرز ہے ، اسے بڑھا کر 10 ارب ڈالرز تک لے جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا ان کے دورے کا ایک اہم مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور مشترکہ معاہدوں، خصوصاً جون میں صدر مسعود پزشکیان کے دورئہ پاکستان کے دوران طے پانے والے سمجھوتوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے ۔سکندر مومنی نے کہا کہ تجارتی توسیع کے منصوبوں میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران پاکستان سرحد سے روزانہ کم از کم دو ہزار ٹرک یا کارگو کنٹینرز کی آمد و رفت ممکن بنائی جائے ۔سکندر مومنی کے وفد میں ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے متعدد اعلیٰ حکام کے علاوہ کسٹمز انتظامیہ اور وزارتِ خارجہ، پٹرولیم، صنعت، کان کنی و تجارت، اقتصادی امور و خزانہ، زراعت، اور سڑکوں و شہری ترقی کی وزارتوں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments