لاہور ہائیکورٹ : موٹروے زیادتی، سرگودھا دربار پر 20 افراد کے قتل پر سزائے موت برقرار

لاہور ہائیکورٹ : موٹروے زیادتی، سرگودھا دربار پر 20 افراد کے قتل پر سزائے موت برقرار

ڈی این اے ، میڈیکل،فرانزک شواہد سے جرم ثابت،رعایت انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگی:فیصلہ، اپیلیں مسترد صرف شک، زبانی اطلاع یا تاخیر سے دئیے گئے اضافی بیان کو گرفتاری کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا،قتل کے ملزم کی ضمانت منظور

لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے موٹروے زیادتی کیس اور سرگودھا کے دربار پر 20افراد کے قتل کے کیسز میں مجرموں کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار کھی ہے جبکہ قتل کے الزام میں گرفتار ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف شک، زبانی اطلاع یا تاخیر سے دئیے گئے اضافی بیان کو گرفتاری کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس طارق محمود باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے سنسنی خیز مقدمے میں مجرم عابد علی اور شفقت عرف بگا کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کردیا، فیصلے میں کہا گیا کہ ڈی این اے ، میڈیکل اور فرانزک شواہد نے ملزمان کے جرم کو بلا شبہ ثابت کر دیا ہے۔ متاثرہ خاتون کا بیان نہایت اہم اور قابل اعتماد شہادت ہے اور شناخت پریڈ کے دوران دونوں ملزمان کی درست شناخت بھی ہوئی۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان نے خاتون اور اس کے بچوں کو زبردستی گاڑی سے نکال کر سنگین جرم کا ارتکاب کیا، جو نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بنا۔ ایسے گھناؤنے جرم میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت جرم کی نوعیت اور سنگینی کے عین مطابق ہے ، اس لیے اس میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ عدالت نے ریاست کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیل بھی مسترد کرتے ہوئے مجرمان کو دی گئی عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔ دریں اثنا جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سرگودھا میں دربار کی گدی کے تنازع پر 20 افراد کو قتل کرنے کے مقدمے میں 4 مجرموں کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے 20 بار سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، 25 صفحات پر مشتمل فیصلے کے مطابق جرم کی ہولناکی انصاف کی آنکھوں پر پردہ نہیں ڈال سکتی ،عدالت نے صرف جذبات میں نہیں بلکہ صرف شواہد پر فیصلہ کیا،دربار پر پیش آنے والا واقعہ انتہائی ہولناک اور غیر معمولی نوعیت کا تھاایف آئی آر کے فوری اندراج نے جھوٹے مقدمے کے امکان کو ختم کر دیا،پولیس کی بروقت کارروائی استغاثہ کے مو قف کو مضبوط بناتی ہے ،زخمی گواہ کا بیان غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے اور بلاوجہ رد نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے کے مطابق مجرمان کے خلاف جھوٹے مقدمے کا کوئی محرک ثابت نہیں کیا جا سکا،خون آلود ہتھیاروں سمیت موقع پر گرفتاری نے استغاثہ کا مقدمہ مزید مضبوط کیاعینی گواہوں کے بیانات طبی شواہد سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں،ڈی این اے اور فرانزک شواہد نے ملزمان کو جرم سے جوڑ دیا،فرانزک رپورٹ کے مطابق مقتولین کے جسموں میں ایتھانول موجود تھانشہ آور مشروبات پلا کر مقتولین کو بے ہوش کیا گیا ،جس کی تصدیق فرانزک شواہد نے کی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ قتلِ عام کی بنیادی وجہ دربار کی گدی نشینی کا تنازع تھاجس نے خوفناک قتلِ عام کی شکل اختیار کی مجرموں کا محض انکار مضبوط عینی، طبی اور فرانزک شواہد کو رد نہیں کر سکتے مذہبی مقام پر اجتماعی قتل سے عوام میں خوف، دہشت اور عدم تحفظ پھیلاانسداد دہشت گردی ایکٹ کا اطلاق اس مقدمے میں مکمل طور پر درست تھا مجرمان نے بیس بے گناہ افراد کو انتہائی سفاکانہ انداز میں قتل کیامقتولین کو برہنہ کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے میں کسی قسم کی رعایت انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگی۔

مجرموں کے خلاف سرگودھا کے تھانہ صدر میں 2 اپریل 2017 کو مقدمہ درج کیا گیاانسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے 3 دسمبر 2019 کو چاروں مجرموں کو بیس بار سزائے موت سنائی۔مزید برآں جسٹس محمد طارق ندیم نے قتل کے مقدمے میں ملزم عمر فاروق عرف احتشام کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے سپلیمنٹری بیان کی بنیاد پر کسی بھی شخص کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دیا۔11 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ صرف شک، زبانی اطلاع یا تاخیر سے دیے گئے اضافی بیان کو گرفتاری کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔دوران سماعت ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن نے اعتراف کیا کہ فوجداری قوانین میں سپلیمنٹری بیان کی کوئی الگ قانونی شق موجود نہیں، بعض اوقات تفتیشی افسران شاطرانہ مقاصد کے لیے سپلیمنٹری بیانات کا سہارا لیتے ہیں۔ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ صرف سپلیمنٹری بیان کی بنیاد پر کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔عدالت نے انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کو حکم دیا کہ فیصلے کی نقل صوبے بھر کے تمام ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز)، کیپیٹل سٹی پولیس افسران (سی پی اوز) اور ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز) کو بھجوائی جائے تاکہ اس فیصلے پر مو ثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...