امریکا ایران کشیدگی : دو بحری راستوں میں جہاز رانی شدید متاثر
آبنائے ہرمز، باب المندب پر خطرات بڑھ گئے ، عالمی توانائی منڈیوں میں ہیجان
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد ایم او یو کے بعد دوبارہ جنگ شروع ہونے سے توانائی کی عالمی منڈیوں میں جہاں ہیجان کی کیفیت ہے وہیں پیچیدہ سمندری گزرگاہوں میں خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کی سمندری گزرگاہ باب المندب کی بندش کا اعلان کیا ہے ۔ مارکیٹ انٹیلیجنس ادارے کیپلر کے مطابق اگرچہ آبنائے ہرمز اور باب المندب سے بحری جہاز گزر رہے ہیں تاہم آپریشنل اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا اور 21 جولائی کو گزرنے والے جہازوں میں نمایاں کمی ہوئی۔ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر 31 فیصد کم ہو کر صرف 9 رہ گئی اور باب المندب میں 34 فیصد کم ہو کر 29 جہازوں تک محدود رہی۔
خلیجِ عدن کے قریب چار تصدیق شدہ بحری جہازوں کا یوٹرن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حوثیوں کی سعودی عرب سے منسلک جہاز رانی کو دھمکیوں سے شپنگ کمپنیاں مزید محتاط ہو گئی ہیں۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز کے اطراف میں تصدیق شدہ بحری جہازوں پر حملے جاری ہیں۔ دونوں اہم بحری راستوں پر غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی شپنگ روٹس، مال برداری کے اخراجات اور توانائی کی منڈیوں میں جغرافیائی سیاسی رسک پریمیم میں اضافہ کا خدشہ بڑھ گیا ہے ۔ ادھر میری ٹائم پر کام کرنے والے ادارے ونڈورڈ کے مطابق 14 خام تیل بردار ٹینکرز نے اپنی منزل ریڈ سی یا سعودی عرب ظاہر کی ہے مگر ان کی سرگرمیاں یکسر مختلف کہانی بیان کر رہی ہیں۔
ونڈورڈ کی آل سورس انٹیلیجنس کے مطابق 3 جہازوں نے خلیجِ عدن میں اپنا آٹومیٹک آئیڈینٹیفکیشن سسٹم بند کر دیا۔ دو بحری جہازوں نے AIS آن رکھتے ہوئے اپنا راستہ تبدیل کر لیا جبکہ 3 سعودی پرچم بردار ٹینکرز نے بھی AIS بند کر دیا۔ حوثیوں کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی کے صرف دو دن بعد ریڈ سی کی صورتحال واضح طور پر تقسیم ہوتی دکھائی دی۔ کمرشل آئل ٹینکرز باب المندب سے واپس مڑنا شروع ہو گئے جبکہ پابندیوں کا شکار ایک ایرانی جہاز پہلی مرتبہ اس راستے سے گزرا۔ 5 آئل ٹینکرز نے راستہ بدلا جن میں 4 سعودی خام تیل سے لدے ہوئے تھے ۔ ایک ہی دن میں آبنائے ہرمز میں 3 ٹینکرز حملوں کا نشانہ بنے اور حملے کے وقت تینوں نے اپنا AIS بند کر رکھا تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments