26نومبر مبینہ ہلاکتیں، PTIکی وزیراعظم و دیگر کیخلاف شکایت خارج
اسلام آباد(رضوان قاضی)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے 26 نومبر کے احتجاج میں مبینہ ہلاکتوں اور زخمیوں کے معاملہ پر پی ٹی آئی کی دائر پرائیویٹ کمپلین خارج کر کے وزیر اعظم شہباز شریف،وزیر داخلہ محسن نقوی،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز،وفاقی وزیر عطاء تارڑ، صوبائی وزیر مریم اورنگزیب سمیت دیگر کوبری الذمہ قرار دے دیا۔ دوران سماعت عدالت نے فیصلہ سنایا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی، پی ٹی آئی کی درخواست میں وزیر داخلہ سمیت دیگر پر قتل عام کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ عدالت نے 17 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ متعدد مواقع فراہم کئے جانے کے باوجود درخواست گزار بیرسٹر گوہر علی خان بطور چشم دید گواہ بیان ریکارڈ کرانے عدالت میں پیش نہیں ہوئے ، شکایت میں علی امین گنڈاپور، عمر ایوب ، بشریٰ بی بی اور متعدد ارکان اسمبلی کو گواہ نامزد کیا گیا لیکن کوئی بھی عدالت پیش نہ ہوا اور نہ ہی کسی نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 26 نومبر کو احتجاج کے دوران 12 افراد جاں بحق جبکہ 38 سے زائد کارکنان گولی لگنے سے زخمی ہوئے لیکن طویل عرصہ گزرنے کے باوجود نہ پوسٹ مارٹم رپورٹس ، نہ ڈیتھ سرٹیفکیٹس اور نہ ہی زخمیوں کی میڈیکل رپورٹس عدالت کے سامنے پیش کی گئیں، بظاہر وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر وفاقی کابینہ ارکان کے خلاف مقدمہ بنتا نظر نہیں آتا کیونکہ ان کے خلاف کارروائی کے لیے مطلوبہ ابتدائی شواہد فراہم نہیں کیے گئے ، محض زبانی الزامات کی بنیاد پر فوجداری کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔ درخواست کے ساتھ اخباری تراشوں کے کئی والیمز منسلک کیے گئے الزامات کے حق میں ڈیجیٹل فوٹیج ، ویڈیو ریکارڈ بطور ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ واضح رہے بیرسٹر گوہر نے درخواست میں مذکورہ سمیت دیگر حکومتی شخصیات کو فریق بناتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی تھی جو عدالت نے مسترد کر دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments