بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی تحریک کیا کامیاب ہوگی؟

بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی تحریک کیا کامیاب ہوگی؟

دیکھنا ہوگا گنڈاپور اپنا وزن کس پلڑے میں ڈالتے ،پختونخوا کے کردار پربھی نظر

(تجزیہ:سلمان غنی)

تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کے بقول عمران خان کی رہائی کیلئے ان کی بہنوں کی تحریک کا پارٹی کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں جبکہ اس کے برعکس عمران خان کی بہنیں آزادانہ بنیادوں پر اپنے بھائی کی رہائی کے حق میں تحریک چلانا چاہتی ہیں۔ ایسے میں دیکھنا ہوگا کہ کیا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی تحریک کامیاب ہو سکے گی؟ موجودہ صورتحال میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بظاہر عمران خان کی بہنوں کے ساتھ نمایاں طور پر کھڑے نظر آتے ہیں،اگر وہ عمران خان کی بہنوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے تو پی ٹی آئی کا ورکر ان سے نالاں نظر آئے گا، علی امین گنڈا پور بھی اس تحریک میں فی الوقت کہیں بھی نظر نہیں آ رہے ، دیکھنا ہوگا کہ وہ اپنا وزن کس پلڑے میں ڈالتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ارکانِ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی زیادہ تر خاموش ہیں اور خود کو مزاحمت کی سیاست سے دور رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس موقع پر اسٹیبلشمنٹ سے براہِ راست ٹکراؤ کی پالیسی پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے۔

بانی پی ٹی آئی کی بہنیں بضد ہیں کہ تحریک ہر صورت چلائی جائے گی اور ان کے بقول ان کا تعلق کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف سے نہیں ہے بلکہ وہ اپنے بھائی کی حمایت میں تنِ تنہا باہر نکلی ہیں اور ان کو اندازہ ہے کہ اس پر انہیں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے ۔ ان کے بقول اب اگر ہم باہر نہ نکلے اور پارٹی کی حکمتِ عملی میں وضاحت کا پہلو کمزور نظر آئے گا تو بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور زیادہ دور ہو جائے گی۔اگرچہ پی ٹی آئی کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ سے ڈیڈ لاک کے خاتمے کے لیے پس پردہ روابط بھی ہوئے ، مگر اس لیے نتیجہ خیز نہ بنے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اس ضمن میں حکومت سے روابط کا مشورہ دیا جبکہ اڈیالہ جیل سے اپوزیشن لیڈروں کے طور پر محمود خان اچکزئی اور آغا ناصر عباس کی نامزدگی کو اراکینِ اسمبلی اپنے اوپر عدم اعتماد قرار دیتے نظر آئے ۔

زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو بلا شبہ عوام مسائل زدہ اور مہنگائی زدہ ہیں، ان کے اندر حکومت کے خلاف ردِعمل شدید ہے ، مگر کوئی بھی جماعت عوام کی آواز بننے کو تیار نہیں۔ سیاسی تاریخ میں احتجاجی تحریک میں بڑی جماعتیں مل کر مشترکہ نکات پر اتحاد کر کے حکومت کے خلاف سرگرم ہوتی تھیں، لیکن ایسا اب نظر نہیں آرہا ۔اگرچہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو بیرونی محاذ پر چیلنج درپیش ہیں تاہم ملک کے اندر ایسی صورتحال نہیں کہ کہا جا سکے کہ حکومت خطرناک زون میں ہے ۔ البتہ پختونخوا میں ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وہاں پی ٹی آئی احتجاج کی پوزیشن میں ہے اور اس کی بڑی وجہ وہاں ان کی حکومت کا ہونا ہے ، مگر وہاں کا احتجاج صرف صوبائی حکومت کی وجہ سے نتیجہ خیز نہیں بن سکتا اس کیلئے ملکی گیر اہمیت اور حیثیت بھی منواناہوگی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...