جولائی 2024 سے پہلے کے وفاقی ملازمین کنٹری بیوٹری پنشن سے مستثنیٰ
مسلسل وفاقی ملازمت رکھنے والوں کو دوسری تعیناتی پر نئی تقرری تصور نہیں کیا جائے گا اہل ملازمین سے کٹی کنٹری بیوٹری پنشن رقم واپس یا ایڈجسٹ کی جائیگی:وزارت خزانہ
اسلام آباد (نیوز رپورٹر)وزارت خزانہ نے وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور محکموں کو کنٹری بیوٹری پنشن سے متعلق پالیسی وضاحت جاری کر دی ہے ۔وزارت خزانہ کے مطابق ایسے سرکاری ملازمین جنہوں نے یکم جولائی 2024 سے پہلے وفاقی حکومت میں مستقل بنیادوں پر ملازمت اختیار کی ہو اور قواعد کے مطابق بغیر کسی وقفے کے وفاقی حکومت کے کسی دوسرے ادارے یا عہدے پر تعینات ہوئے ہوں انہیں نئی تقرری تصور نہیں کیا جائے گا۔ وزارت خزانہ کے مطابق ایسے ملازمین وفاقی حکومت کی ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن فنڈ (کنٹری بیوٹری پنشن)سکیم 2024 کے دائرہ کار میں نہیں آتے کیونکہ متعلقہ قواعد کے تحت ان ملازمین کو اس سکیم سے مستثنٰی قرار دیا گیا ہے جن کی سرکاری ملازمت کا تسلسل برقرار رہا ہو۔پالیسی کے مطابق ایسے ملازمین کی تنخواہوں سے کنٹری بیوٹری پنشن فنڈ کی کٹوتی نہیں کی جائے گی جبکہ اگر کسی اہل ملازم کی تنخواہ سے اس مد میں پہلے ہی رقم کاٹی جا چکی ہے تو اسے قواعد کے مطابق ایڈجسٹ یا واپس کیا جائے گا۔وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ اس پالیسی کا اطلاق ان تمام وفاقی سرکاری ملازمین پر ہوگا جو مقررہ شرائط پر پورا اترتے ہیں جبکہ متعلقہ وزارتیں، ڈویژن، اکاؤنٹس دفاتر اور دیگر ادارے آئندہ اسی پالیسی کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments