طوفانی بارشیں ، مزید 15 جاں بحق، بھارت نے پانی چھوڑ دیا
چناب میں اونچے درجے کاسیلاب ، سیالکوٹ، وزیر آباد میں ہائی الرٹ حافظ آباد، چنیوٹ میں دریاکنارے سے منتقلی کی ہدایت ، بارش کل تک رہے گی
لاہور،سیالکوٹ ، اسلام آباد ،پشاور(سٹاف رپورٹر سے ،نمائندگان دنیا،نیوزایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک )پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مون سون کی طوفانی بارشوں کاسلسلہ جاری ہے جس کے باعث درجنوں مکانات منہدم ہوگئے، نشیبی علاقوں میں پانی گھروں اور کھڑی فصلوں کو ڈبو گیا،مختلف حادثات میں مزید 15افرادجاں بحق اورمتعدد زخمی ہوگئے جبکہ بھارت نے سلال اوربگلیہار ڈیم کے گیٹ کھول د یئے ہیں جس کے بعد دریائے چناب میں اونچے درجے کاسیلاب ہے ،سیالکوٹ اور وزیر آباد میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور فلڈ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح 3 لاکھ کیوسک سے بڑھ کر9لاکھ کیوسک تک ہونے کا امکان ہے۔
حافظ آباد، چنیوٹ اور جھنگ میں دریائے چناب کے کناروں پر رہنے والے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے ۔فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریبی مواضعات بھی زیرآب آسکتے ہیں، جبکہ ملتان اور مظفرگڑھ کے نشیبی دیہات کے لیے بھی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ ہیڈ مرالہ سے ہیڈ تریموں تک دریائے چناب سے ملحقہ تمام اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔دوسری طرف ہیڈ مرالہ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دریائے جموں توی، مناور توی میں بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے ۔ آخری اطلاعات آنے تک ہیڈ مرالہ میں پانی کی آمد 2لاکھ 75ہزار 608کیوسک ریکارڈ کی جارہی ہے جبکہ ہیڈ خانکی کے لئے پانی کا اخراج دو لاکھ 58 ہزار 608 کیوسک ہے جہاں نچلے درجے کا سیلاب ہے ۔
دوسری جانب ہیڈ قادرآباد پر پانی کی آمد 158,539 کیوسک اور اخراج 143,539 کیوسک ریکارڈ کیا گیا جہاں درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے ۔ شکر گڑھ میں نالا نئیں میں شدید طغیانی کے باعث قصبہ نور کوٹ سے ملحقہ 30 دیہات کے راستے زیر آب آگئے ، نورکوٹ میں پل کے قریب ٹوٹی پلیوں کی جگہ قائم کیا گیا متبادل راستہ بھی سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا جس کے باعث سینکڑوں دیہات کا نورکوٹ، شکرگڑھ اور نارووال سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ دریں اثنا پنجاب ریسکیو 1122 کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں بارش اور آندھی کے نتیجے میں دیواریں اور چھتیں گرنے سے مزید 8 افراد جاں بحق جبکہ 37 زخمی ہوگئے ۔ گوجرانوالہ میں جناح روڈ پر خالی پلاٹ میں کھڑے بارشی پانی میں مرگی کا مریض 18 سالہ شہاب ڈوب کر زندگی کی بازی ہار گیا۔ اعوان چوک کے علاقے اسماعیل کالونی کے رہائشی محنت کش شاہد کے گھر کی چھت گر نے سے ملبے تلے دب کر شاہد کا سات ماہ کا بیٹا اور پانچ سالہ بیٹی موقع پر جاں بحق ہو گئے جب شاہد اس کی اہلیہ اور ایک بیٹا زخمی ہو گئے۔
لالہ موسیٰ کے علاقہ باہروال میں مکان کی چھت گرنے سے 6 سالہ محمد علی اور اس کا والد عمران ملبے تلے دب گئے ، اہل دیہہ نے باپ بیٹے کو ٹراما سنٹر پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے محمد علی کی موت کی تصدیق کردی ،گجرات میں محلہ کریم پورہ میں گلی سے گزرنے والی خاتون رحمتاں بی بی پر اچانک دیوار آگری جس کے نتیجہ میں وہ شدید زخمی ہوگئی، محلہ قصبہ الفضل مسجدکے قریب مکان کی دیوار گرنے سے ماں بیٹاشدیدزخمی ہوگئے ، نوشہرہ ورکاں کے نواحی گاؤں منج والی میں محنت کش شاہد اقبال کے گھر کی چھت گر نے 10 سالہ اذان شدید زخمی ہو گیا اور لیجاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ سیالکوٹ میں بارش کے باعث چھتیں گرنے کے تین مختلف واقعات میں 12 افراد زخمی ہوگئے ۔پاکپتن میں چک دھاونہ نزد 33 ایس پی گاؤں میں مکان کی چھت گرنے سے 8 سالہ نور فاطمہ اور 6 سالہ عثمان موقع پر ہی جاں بحق جبکہ ان کی والدہ نسرین بی بی زخمی ہو گئی۔
ساہیوال میں کوٹ خادم علی شاہ 85/6-Rمیں مویشیوں کے باڑے کی چھت گرنے سے 35سالہ شادی شدہ زاہدہ بی بی جاں بحق ہو گئی ۔ خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں بارشوں سے فلیش فلڈ کے دوران تین افرادجاں بحق ہوگئے ۔ ادھر لاہور میں چند گھنٹوں کی شدید بارش سے کئی مرکزی شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ۔ لکشمی چوک میں سب سے زیادہ 123.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ پانی والا تالاب میں 122 اور چوک ناخدا میں 106 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ شہر میں اوسطاً 59 ملی میٹر بارش نوٹ کی گئی۔ بارش کے بعد لیسکو کے 230 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے ، جس کے باعث متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری طرف چنیوٹ میں دریائے چناب کی موجیں مسجد کو بہا لے گئیں۔ جسڑ کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث مکینوں کو نقل مکانی کی ہدایت کر دی گئی۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے بتایا کہ بالائی علاقوں میں مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہا ؤمیں اضافہ ہو ا ہے، بارشوں کا دوسراسپیل کل تک جاری رہنے کاامکان ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments